حجاج بن یوسف اور امام شبعی


حجاج بن یوسف کی عادت تھی کہ وہ علما کو دربار میں بلا کر سوالات کرتا اورغلجواب کا بہانہ بنا کران کو قتل کر دیتا. چنانچہ ہزاروں علمہ کواس ظالم نے شہید کردیا۔

جب اورات کا گورنر بن کرآیاتو اس نے امام شبعی کو دربار میں طلب کیا۔ امام موصوف حجاج کے دربار میں ڈرتے ہوئے تشریف لے گئے اور دوسرے لوگوں کو بھی آپ کی جان کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ مگرامام موصوف جب دربار میں پہنچے آپکا حسب ذیل مناظرہ شروع ہوا۔حجاج کہنے لگا.امام شبعی! علوم قرآن میں آپ کا مبلغ علم کہاں تک ہے؟ امام شبعی:اس علم میں تمام اکابر علمائے عراق میں استاد ہوں۔ حجاج: علم فرائض میں بھی آپ کی کچھ معلومات ہیں؟ امام شبعی:اس علم میں بھی مجھے پوری پوری مہارت حاصل ہے حجاج: کیا علم الانسان میں بھی آپ کو کچھ دل ہے امام شبعی:اس علم کا تو میں اتنا ماہر ہوں کہ اس فن میں میرا فیصل’’قول فیصل‘ کی حیثیت رکھتا ہے. امام شعبی کی اس ذہانت سے آپکی خان بخشی ہوگا.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: