دریائے دجلہ میں کتابوں کے پہاڑ ڈبو دیئے گئے


آپ جانتے ہیں کہ بغداد مسلمانوں کا ایک بڑاعلمی مرکز رہا ہے۔ وہاں بڑے بڑے فقہاء اور محدثین پیدا ہوئے۔علم کلام علم فقہ منطق، ریاضی اور کیمیا پرانی کتابیں لکھی گئیں کہ کتب خانے بھر گئے. وہاں مسلمانوں کی بڑی مضبوط حکومت قائم تھی.

لیکن جب مسلمان آپس میں لڑنے لگے اورگرہوں میں بٹ گئے تو الله تعالی نے ان پر تاتاریوں کو مسلط کر دیا اور فتنہ تاتاری وہ فتنہ ہے جس کا تذکرہ کرتے ہوئے آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ہلاکو خان کی فوج کے ہاتھ سے بغداد اور اس کے مضافات میں ایک کروڑ چھ لاکھ مسلمان قتل ہوئے، انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا، شاہی کتب خانے کی کتابیں دجلہ میں چھینک دی گئیں۔کتابیں اس قدر تھیں کہ دجلہ میں ایک بند سا بن گیا اور دجلہ کا پانی کئی دن تک اتناسیا رہا کہ دواتوں میں سیاسی ڈالنے کی ضرورت نہ رہی، کہا جاتا ہے کہ مسلمان کے دل و دماغ پر تاتاریوں کا اس قد رعب چھا گیا تھا کہ اگر ایک تا تاری عورت مسلمان مرد کو بازار میں روک لیتی اور کہہ دیتی تم یہیں شہر میں گھر سے تلوار لے کر تمہیں قتل کرتی ہوں تو اس مسلمان پر اتنا خوف چھا جاتا کہ اسے وہاں ایک قدم اٹھانے کی جرات نہ ہوتی اور عورت اسے قتل کر دیتی۔آپ جانتے ہیں کہ مسلمان کو یہ ذلت کیوں اٹھانی پڑی؟آپس میں ٹکرانے اور ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرنے کی وجہ سے، بغداد کے حاکم نے اپنے حرانی خوارزم شاہ کو کمزور کرنے کے لئے تاتاریوں کو خود مشورہ دیا کہ خوارزم شاہ پر حملہ کرو تاتاریوں نے خوارزم شاہ کی سلطنت تو ختم کر دی مگر اس کے بعد بغداد کی بھی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: