غار والے

اصحاب کہف کے معنی غار والے کے ہیں، یہ چندہ
مولن نوجوان بچوں کا قصہ ہے جس کوقرآن پاک میں سورہ کہف میں بیان کیا گیاہے۔


آج سے سیکڑوں برس پہلے کسی ملک میں ایک مشرک اور ظالم بادشاہ تھا، وہ خودبھی اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتا تھا اور دوسروں کو بھی بتوں کی پوجا کا حکم دیتا تھا، جو ایسا نہیں کرتا اس کو سخت سزائیں دیتا، ان کی سلطنت میں کچھ نوجوان تھے. جن کی تعدادتقریباسات تھی، اللہ نے ان کو سیدھاراستہ دکھایا، وہ بتوں کو پوجنے کو برا سمجھتے تے تھے، ان کے ماں باپ نے ان کو بہت سمجھایا کہ بادشاہ کو اگر خبر ہوئی تو قتل کرادے گا، لیکن ان بچوں کے دل میں اشکی بت گر کر
گئی، ماں باپ کی بھی نہ سنی، اور اللہ کی عبادت کرنے لگے، آخر ایک دن بادشاہ کو خبر ہو گئی، کے ڈر کی وجہ سے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر چپ گئے، ان کے ساتھ ان کا کتا بھی ساتھ چلا گیا۔جب کوئی شخص اللہ کا ہوجاتا ہے تو اللہ اس کی مدد کرتا ہے، جب غار میں پہنچے تو الله تعالی نے ان کو سلا دیا اور کتا غار کے منہ پر بیٹھ گیا، اس کو بھی الله تعالی نے سلا دیا، اللہ تعالی نے اپنی نشانی اور لوگوں کو اپنی قدرت دکھانے کےلے تین سو سال تک سلائے رکھا اس عمر میں پرنہیں کتنے بادشاہ ختم ہو گئے، زمانہ بدل گیالوگ بدل گئے۔ تین سو سال بعد الله تعالی نے ان کوتھوڑی دیر کےلے جگایا ان کو ایسا معلوم ہوا کہ وہ ابھی سوئے تھے، انھوں نے دیکھا کہ سب چیزیں اسی طرح موجود ہیں جس طرح وہ سوئے تھے، کتا بھی اسی غار کے منھ پر بیٹھا تھا،

ان کو بھوک معلوم ہوئی تو انھوں نے اپنے چند ساتھیوں کو سکے دیئے کہ چپ چھپا کر کسی طرح بازار جا کر کے کھانا لے آئیں، جب وہ بازار گئے تو وہاں کی ہر چیز بدلی ہوئی نظر آئی، دوکان پر ہونے، کھانا خریدا، جب وہ سکہ دیا تو لوگوں کو بہت تعجب ہوا کہ یہ کہ فلاں بادشاہ کے وقت کا ہے، جس کو مرے ہوئے کئی سو برس ہو گئے، لوگوں کو شک گزرا کہ کہیں کوئی خزان تو ان کو ہاتھ نہیں لگا، اور آہستہ آہستہ یہ بات اس وقت کے بادشاہ کو ہو گئی، یہ بادشاہ بیت ایران ارتقابادشاہ اور ان کے درباریوں کو اور یقین ہوگیا کہ اللہ تعالی بڑی طاقت اور قدرت والا ہے مرنے کے بعد وہ اسی طرح زندہ کرے گا جس طرح ان غاروالوں کو کیا ہے، پرلوگ قیامت تک سوتے رہیں گے۔الله تعالی نے اس واقعہ سے ہم کو بتایا کہ وہ اپنے ماننے والوں کی حفاظت کرتا ہے ناموں سے نجات کی ایسی سورتیں پیدا کر دیتاہے جوکبھی انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتیں۔ ہم کو یہ بھی سبق ملتا ہے کہ جس میں اللہ تعالی کی محبت پیدا ہو جاتی ہے وہ کسی بڑے سے بڑے بادشاہ سے بھی نہیں ڈرتا۔آیئے ہم سبھی اللہ سے بہت کریں اور یقین پیدا کریں کہ ہر کام اک سے ہوتا ہے اور جو بھی ہوتا ہے اور جو کچھ ہم دنیا میں اچھا برا کام کریں گے، قیامت کے روز ہم کو اس کا بدلہ لے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: