ماں کی بیٹے کو نصیحت

حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنے بیٹے عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کو جنگ کے لئے تیار کیا اور فرمایا بیٹا تیری شهادت مجھے پسند ہے، اگر تو اللہ کے نام پر رہا ہے اس میں کیا بات ہے؟

کہنے لگے اماں! پھر مجھ سے گلے لگے , میری آج واپس نہیں ہوگی، جب گلے ملنے ،، ان کی والدہ نابینا ہوچکی تھیں، جب ہاتھ گلے کو لگایا تو دیکھا حضرت عبداللہ نے زرہ پہنی ہے کہنے لگیں بیٹا! ایک طرف تو اللہ کے نام پر مرنا چاہتے ہو اور دوسری طرف زره پہنی ہے۔ یہ زرہ کیوں پہنی ہے؟ اسے اتارو۔بیٹے نے کہا، اے میری ماں مجھے یہ ڈر ہے کہ کہیں میری لاش کی بے حرمتی نہ کردیں، اس میں نے زرہ پہنی ہوئی ہے۔ فرمایا! میرے جگر کے ٹکڑے،. الشاة المذبوحة لا المهاالسلخ جب بکری ذبح ہوجاتی ہے، پر اس کی کھال کو اس کے ٹکڑے کروں کو کیا پرواہ؟ جب تو اپنے رب کے پاس جائے گا، تو تیرے جسم سے جو مرضی کریں اس کی کیا پرواہ ہے؟ اپنے ہاتھ سے بیٹے کی زرہ اتروائی ،ایک کرتے اور دھوتی میں روانہ کیا. آب دونوں ہاتھوں میں تلواریں لے کر اللہ کا شیر میدان میں نکلا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: