سلطان اندلس کی ندامت

سلطان اندلس بعدالرحمان الناصر الزہراء کی تعمیرات کی نگرانی میں انہماک کےباعث دو تین ہفے جمعہ کی نماز میں حاضر نہ ہوا۔

اس کے بعد جب وہ نماز جمعہ میں آیا تو حضرت منذر بن سعد البلوطی علیہ الرحمتہ نے اس کانام لئے بغیر آیات قرآنی اور احادیث نبوی کی روشنی میں سلطان کے غلط کاموں کی طرف تنبیہ کی تو اس وعظ کی برکت سے سارے نمازی اور خود الناصر رو پڑا لیکن جب نماز سے فارغ ہو کر لوٹا تو اتنا آزردہ ہوا کہ اس نے قسم کھا کر کہا:”واللہ! میں آ نندہ مندز کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا“ ۔اس کے بیٹے الم نے کہا:”اگر ایسا ہے تو آپ منذرکو معزول کیوں نہیں کردیتے؟سلطان نے کہا: نہیں۔ مجھے تو منذر کے لہجے سے تکلیف ہوئی تھی۔ اب تو میرا دل چاہتا ہے کہ جس طرح بھی ہو میں اپنی قسم کے کفارے کی کوئی راہ نکالوں تا کہ اس کی شفاعت سے محروم ہو کر مجھے اللہ کے ہاں ندامت نہ ہو۔ اس جیسے صاحب علم وفضل کو اپنے گمراه و خطا کار اس کے کہنے میں آ کر معزول نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک وہ زندہ ہے .ہم زندہ ہیں,وہی نماپڑھاےگ,. سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم اس کابدل تلاش کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: