مجھے میرا رب بچاے گا

ایک مرتبہ نبی علیہ السلام ایک درخت کے نیچے آرام فرمارہے تھے ایک کافر نے دیکھا کہ تلوار لٹک
رہی ہے آپ آرام فرمارہے ہیں اس نے سوچا کہ اچھا موقع ہے کچھ کام کر دکھاوں .

اس نے آگے بڑھ کر تلوار کو ہاتھ میں لیا اسی دوران نبی علیہ السلام بیدار ہو گئے تو وہ پوچھتا ہے من يمنعك منی یا محمد”)اے محمد!( اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا)نبی علیہ السلام نے فرمایا هللا اس لفظ میں کوئی جادو کہ اس کافر کے دل پر ایک ہیبت طاری ہوگی, اس کے ہاتھ سے تالوارگرگئی آپ نے تلوار اپنے ہاتھوں لے کر فرمایا من يمنعك منیاب کتھے مجھ سے کون بچائے گا؟وہ کافر نہیں کرنے لگا کہ آپ تو کریم ہیں آپ تو بڑے اچھے ہیں. آپ مجھے معاف کردے .آپ نے اپنے رحمت للعالمین ہونے کا ثبوت دیا کہ اچھا تو ایسے کئی سے معافی مانگ رہا ہے جسے رحمت اللعالمین کہا گیا فرمایا جا تجھے میں نے معاف کر دیا.کہنے لگا حضوران آپ نے مجھے معاف کردیا اور ز راکلمہ پڑھا رکھے تا کہ مجھے اللہ تعالی بھی معاف فرما دیں میں آج سے آپ کے غلاموں میں شامل ہوتا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: