حدیث شریف

حضرت امام احمد بن حنبل سے دریافت کیا جا تا ہے کہ ایک شخص تو نفلی روزوں اور نفلی نمازوں میں مشغول ہے اور دوسرا حد یث لکھنے میں مشغول ہے فرمائے آپ کے نزدیک کون افضل ہے ۔

آپ نے فرمایا : حدیث شریف کا لکھنے والا‘‘ ( تاریخ بغدادی) … حضرت ابو بکر احمد بن علی فرماتے ہیں کہ حدیث شریف کا سیکھنا ہرقسم کی نفلی عبادت سے بہتر ہے ۔ حضرت یحی بن یمان فرماتے ہیں طلب حدیث بہترین عبادت اور باعث خیر و برکت ہے۔ ( تاریخ بغدادی ،شرف اصحاب الحدیث )حدیث شریف سے شفا حاصل ہوتی ہے.جس طرح اللہ کے کلام سے شفا حاصل ہوتی ہے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے کلام سے بھی شفا حاصل ہوتی ہے۔ ختم قرآن مجید اور ختم حدیث رسول اللہ ﷺ دونوں باعث برکت ومو جب سعادت دار مین ہیں ۔ اس کا بارہا تجر بہ ہو چکا ہے ۔ حضرت امام رمادی جب بیمار پڑتے تو فرماتے حدیث پڑھنے والوں کو بلاؤ ۔ جب وہ آ جاتے تو فرماتے مجھے حدیث پڑھ کر سناؤ ۔ (تاریخ بغداد شریف اصحاب الحديث)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: