حسن بصری کا کلمہ حق

عمر بن ہبیرہ جب یزید بن عبدالملک بادشاہ کی طرف سے عراق وخراسان کا گونربن کر آیا تو اس نے خواجہ حسن بصری، اورامام محمد بن سیرین،اور امام شبعی کو اپنے دربار میں طلب کیا اورعلماء کے سامنے یہ تقریر کی یزید بن عبدالملک کو خداوند عالم نے اپنے بندوں پر مقرر فرمایا ہے.

اور مجھ کو خلیفہ کی طرف سے گورنری کا عہدہ ملا ہے۔ لہذا مجھے خلیفہ کی طرف جو حکم ملتا ہے۔ میں بلا چون و چراہ کی تعمیل کرتا ہوں ۔ اس بارے میں آپ حضرات کی کیارائے ہے؟گورنر کی اس پولٹیکل گفتگو کا حسن بصری نے جوصاف ا جواب دیا ہے وہ انتہائی حیرت انگیز ہے
آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے ابن ہبیرہ تو یزید بن عبدالملک کے بارے میں خدا سے ڈر اور خداکے بارے میں ہرگز ہرگز یزید بن عبد الملک کا خوف مت کر۔ کیونکہ خداوند تعالی تجھ کو دونوں جہانوں میں یزید بن عبدالملک کے شر سے بچا سکتا ہے۔ مگر یزید بن عبدالملک خدا کے عذاب سے تجھ کو ہرگز ہرگز نہیں بچاسکتا ہے۔ یادر کی وہ قہاروجبار تقریب تیرے پاس ملک د کو بھیجے گا جو تھ کو تیرے وسیع گورنمنٹ ہاوس اور شاندار تخت سے یک لخت اندھیری اور قبر میں پہنچا دے گا۔ وہاں تجھ کو بجز تیرے اعمال کے کوئی کام آنے والا نہیں ہے۔ لہذا تو خداکے فرمان کے خلاف بادشاہ کے حکم سے جسارت مت کر کیوں کہ خالق کی معصیت میں مخلوق کی فرمانبرداری ہرگز ہرگز جائز نہیں ہے۔حسن بصری کی یہ ایمان افروز تقریر سن کر گورنر محو حیرت ہوکر خاموش ہوگیا, اور تینوں علماء حق دربار سے آٹھ کر اپنے اپنے گھر چلے گئے.

(ابن خلدان ج ا ص 148)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: