مجھے کلام اللہ سناؤ!

نجاشی نے کہا کیا تم کو اس کلام میں سے کچھ یاد ہے جو تمھارے پیغمبر لائے ہیں . حضرت جعفر ﷺ نے فرمایا ہاں نجاشی نے کہا اچھا اس میں کچھ پڑھ کر مجھ کوسناؤ.

حضرت جعفر ﷺ نے سورہ مریم کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا.بادشاہ اور تمام حواریوں کے آنسو نکل آۓ روتے روتے بادشاہ کی ڈاڑھی تر ہوگئی ( معلوم ہوا کہ بادشاہ ڈاڑھی رکھتا تھا اور یہی تمام انبیاء کا طریق رہا.معاذ اللہ کسی پیغمبر نے بھی ڈاڑھی نہیں منڈ وائی…. ڈاڑھی رکھنا خاص حضرات انبیاء ومرسلین کاطریق رہا)فبكى والله النجاشي حتى اخلصت لحيته وبكت الاساقفة حتى اخصلوا مصاحفهم حين سمعوا ما تلاعليهم…“ نجاشی اس قدر رویا کہ داڑھی تر ہوگئی اور پادری بھی یوں روۓ کہ ان کے سامنے پڑی ہوئی کتابیں بھیگ گئیں…نجاشی نے کہا …… خدا کی قسم! یہی کلام اور جو موسی علیہ السلام لائے تھے ایک ہی دیئے کے دونور ہیں… اس نے ان دونوں (عمر سہی اوران کے ساتھی کو در بارسے یہ کہتے ہوئے اٹھوادیا کہ چلے جاؤ یہاں سے میں ان لوگوں کو ہرگز تمہارے پر نہیں کرسکتا.جب حضرت جعفر تلاوت ختم کر چکے تو نجاشی نے کہا یہ کلام اور وہ کلام جومیسی علیہ السلام لے کر آئے دونوں ایک ہی شمع دان سے نکلے ہوئے ہیں اور قریش کے وفد سے صاف طور پر کہہ دیا کہ میں ان لوگوں کو ہرگز تمہارے حوالے نہیں کروں گا اور نہ اس کا کوئی امکان ہے……

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: