زكوة

اسلام کا چوتھا فریضہ زکوۃ ہے، قرآن پاک میں بہت جگہ نماز کے ساتھ زکوۃ دینے کی تاکید آئی ہے، ہم کو اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے جس کے پاس ایک سوروپے ہوں اس کو ڈھائی روپے زکوۃ غریبوں کو دینی چاہئے، اگر لوگ اپنی زکوۃ دیتے رہیں تو مسلمانوں میں کوئی غریب نہیں رہے

. ہم نے اپنے اصولوں کو چھوڑ دیا اور ہم دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں حالانکہ یہ سب طریقے اللہ سے دور لے جانے والے ہیں ، ہم صرف چھ آیتیں قرآن مجید سے نقل کرتے میں مسلمانوں کو اللہ تعالی حکم دیتے ہیں۔ وأقيموا الصلوة وانوا الزكوفه (سوره بقره پا آیت ۴۳) ترجمة: نماز قائم رکھو اور زکوۃ دبے رہو۔ زکوۃ ہمارے یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دوسری امتوں پر فرض تھی ، حضرت عیسی علیہ السلام کا قول سورۂ مریم میں قرآن مجید میں بیافرمایا ہے۔وأوصاني بالصلوة والزكوة ما دمت حياه (سوره مریم پ۱۶ آیت ) ترجمة: حکم دیا گیا ہے نماز کا اورز کو ۃ کا جب تک میں زندہ رہوں ۔ لوگ میں مجھ کر کو نہیں دیتے کہ پیسے خرچی ہو جائیں گے حالانکہ اللہ تعالی اس کو بڑھاتے ہیں میداللہ کا وعدہ ہے، قرآن مجید میں اللہ میاں کا وعدہ غلط نہیں ہوسکتا اللہ پاک خوداس کی مثال دیتے ہیں قرآن کریم میں ہے۔ مثل الذين ينفقون أموالهم في سبيل الله كمثل حبة أنبتت سبع سنابل في كل سنبلة مائة حبة- والله يضعف لمن يشاء، والله واسع عليم ( سوره البقره پ۳ آیت ۲۶۱) ترجمة: جولوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ کی حالت جس میں سات بالیں اگائیں ہوں اور ہر بال میں سودانے ہوں اور اللہ سی زیادتی جس کو چاہے دیتا ہے اور اللہ تعالی بڑی وسعت والے بڑے علم والے ہیں۔اللہ تعالی نے اس مثال میں ہم کو بتایا ہے کہ جس طرح

ایک اناج کا دانہ میں بویا جاتا ہے اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ دانہ زمین میں دفن ہو گیا لیکن اللہ اس اناج کے دانہ میں سے ایک پودا پیدا کرتے ہیں جس میں سات بالیں ہوتی ہیں اور ہر بال میں تقریبا سودانے ہوتے ہیں اسی طرح لوگ زکوۃ دیتے ہیں یا خیرات دیتے ہیں تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پیسہ جا تا رہا، وہ پیسہ جاتا نہیں اللہ تعالی اس پیسے کوئی گنا کر کے اس آدمی کو واپس کرتے ہیں۔تم نے دیکھا کہ مالدار ہونے کا یہ کیسا اچھا طریقہ ہے اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی رضا بھی گو یا آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: