حضرت ابوبکر صدیق,سب سے زیادہ بہادر

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیا اور لوگوں سے پوچھا ، اے لوگو! لوگوں میں ، سب میں سے زیادہ بہادرکون ہے؟ حاضرین نے کہا اے امیر المومنین ، آ پ ،حضرت علی نے فرمایا، میرا تو جس کسی نے مقابلہ کیا میں اس سے برابر ہی رہا۔

لیکن سب میں زیادہ بہادر حضرت ابو بکر صدیق ہیں ۔ ہم لوگوں نے حضور کے لیے ایک جھونپڑی بنائی اور کہا کہ حضور کے ساتھ اس میں کون رہے گا؟ اس لیے کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی مشرک آپ کے ارادے سے یہاں آئے ، پس خدا کی قسم ہم لوگوں میں سے سوائے حضرت ابوبکر کے کوئی بھی اس کام کے لیے تیار نہ ہوا ، حضرت ابوبکر اپنی تلوار سونت کر آپ کے سرہانے کھڑے ہو گئے کہ جو کوئی آپ کی طرف آنے کا قصد کرے ان کی طرف ضرور گزرے گا ۔ لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر تھے اور میں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ قریش نے آپ کو پکڑ رکھا تھا۔ کوئی ان میں سے آپ پر بگڑ رہا تھا اور کوئی جھنجھوڑ رہا تھا اور وہ لوگ یہ کہتے جاتے تھے کہ تو نے ہی سارے معبودوں کو ایک کر دیا ہے۔ پس خدا کی قسم ہم میں سے کوئی آدمی آپ کے قریب سوائے ابوبکر کے نگیا۔ کسی سے میڑ تے کسی سے مار پیٹ ہوتی کسی سے بھنجھوڑ ا جھنجھوڑی ۔اور وہ کہہ رہے تھے ۔ تمہارا ناس جاۓ کیا تم ایسے آ دی کوتل کر ڈالو گے؟ جو یہ کہتا ہے کہ میرارب اللہ ہے؟ اتنا کہنے کے بعد حضرت علی نے اپنی چادر جوادڑ ھ رکھی تھی اتار دی اور اتاردے کہ ان کی داڑھی تر ہوگئی ۔ پھر فرمایا میں تم لوگوں سے تم دے کر پوچھتا ہوں کہ فرعون کے زمانے کا مومن زیادہ بہتر تھا یا حضرت ابو بکر؟ قوم خاموش رہی کوئی جواب نہ دیا.

حضرت علی نے خدا کی قسم کھا کر فرمایا کہ حضرت ابوبکر کی ایک ساعت فرعون کے زمانے کے موئن جیسے زمین بھر کر ہونے سے بہتر ہے ۔ مؤمن آل فرعون اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا اور یہ یعنی حضرت ابوبکر صدیق وہ شخص ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کو ظاہر کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: