حضرت یوسف علیہ السلام

حضرت یعقوب علیہ السلام کے چھوٹے بیٹے تھے اور یعقوب علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے اس طرح حضرت یوسف علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے ہوۓ۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے اور حضرت یوسف علیہ السلام سب سے چھوٹے تھے ، بہت خوبصورت تھے، باپ ان کو بہت چاہتے تھے، حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے اور چاند اور سورج مجھے سجدہ کر ر ہے ہیں، انہوں نے یہ خواب اپنے باپ کو بتایا، باپ نے حضرت پوسٹ کو منع کر دیا کہ یہ خواب اپنے سوتیلے بھائیوں کو نہ بتائیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے سوتیلے بھائیوں نے مل کر میشورہ کیا کہ ہمارے ابا جان یوسف علیہ السلام کو بہت چاہتے ہیں اور ہم کو اتنا نہیں چاہتے ، اس لئے پوسٹ کو جان سے مار دیا جائے لیکن ان میں سے ایک نے کہا کہ جان سے مست مارو بلکہ یونس کو ایسے کنو میں میں پھینک دو جس میں پانی نہ ہوسب نے مل کر یہ بات طے کر لی ۔ سی سب بھائی اپنے باپ کے پاس آۓ اور کہا کہ آپ پوسٹ کو ہمارے ساتھ کھیلنے کے لئے بھیج دیں، ان کے باپ حضرت یعقوب نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم کھیل میں لگ باؤ اور کوئی بھیٹر یا جنگل میں اس کو کھا جائے بھائیوں نے کہا کہ ہم ایک طاقتور جماعت میں ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ آخر باپ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بینائیوں کے ساتھ بھیج دیا۔ بوائیوں نے ان کو ساتھ لے جا کر ایک اند میرے کنو میں مل بھیک یا ، اور است کورد تے ہو۔ کے گھر واپس آئے اور کہا کہ اباجان ہم نہیں میں اور انکار ہے کے اور پوسطہ کار سے سامان کے پاس بیٹھا تھا .

ایک بھیٹریا آیا اور اس کو کھا گیا ،ثبوت کے لے ایک کرتا خون لگا کر باپ کو دکھایا، بوڑھے باپ کیا کرتے ،صبر کیا خاموش ہو گئے لیکن بیٹے کی جدائی میں روتے ، ہے۔ جس کنویں میں حضرت یوسف علیہ السلام کو پھینکا تھا اس کے قریب ہی ایک قافلہ آیا اور انہوں نے پانی نکالنے کے لئے ڈول کنویں میں ڈالا ،د یکھا کہ ایک خوبصورت لڑکا کنویں میں ہے، ان کو باہر نکال لیا اور جب قافلہ مصر پہنچا تو وہاں پر مصر کے بادشاہ نے ان قافلے والوں کو تھوڑی قیمت دے کر خرید لیا اوراپنی بیوی زلیخا سے کہا کہ اس کو پالو ہوسکتا ہے ہے کہ ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام جوان ہو گئے ، ان کی خوبصورتی وجاہت و عقل مندی اور بڑھ گئی،زینخاعز یز مصر کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی اور ان کو ان کے نفس کی جانب سے پھسلانے لگی ، ایک روز اس نے کمرے کے سارے کے سارے دروازے بند کر دیئے ، حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ حالت دیکھی تو خدا سے پناہ مانگی اور دروازے کی طرف بھاگے، زلیخا نے پیچھے سے آپ کی قمیص پڑی جس سے میں پھٹ گئی۔ اس وقت عزیز مصر بینی زلیخا کا شوہر بھی دروازے پر آ گیا زلیخا نے الٹا الزام حضرت یوسف علیہ السلام پر لگایا اور اپنے خاوند سے کہا کہ بیخص تیری بیوی کی بے آبروئی کرنا چا ہتا تھا جس کی سزا اسکولنی چا ہیے.

حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا میں بے گناہ ہوں بلکہ یہ عورت مجھ کو پھنسانے کی کوشش کر رہی تھی مگر خدا نے مجھ کو اس سے بچالیا ،آخر یہ معاملہ قاضی کے پاس پیش ہوا، قاضی نے حضرت پوسٹ سے صفائی کے لئے گواہ طلب کئے ۔ حضرت یوسف نے عزیز مصر کے خاندان کے ایک معصوم اور ننھے بچے کی طرف اشارہ کیا کہ یہ اس وقت موجودتھاء یہ کی گواہی دے گا، نتھے بچے نے کہا کہ اگر میں آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو یوسف مجرم ہیں ، اور اگر میں پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو یوسف بچے ہیں اور زلیخا جھوٹی ہے، جب حضرت یوسف کا کرتا دیکھا گیا تو وہ پیچھے سے پھٹا تھا،عزیز ممر نے حضرت یوسف سے کہا کہ اس بات کو جانے دو اور زلیخا سے کہا کہ تو معانی مانگ ، حقیقت میں تو ہی قصور وار ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: