حضرت جعفر کی اسلام پر تقریر

اے بادشاہ ! ہم جہالت میں مبتلا تھے ، بتوں کو پوجتے تھے ، نجاست میں آلودہ مر دار کھاتے تھے۔ بے ہودہ بکا کرتے تھے، ہم میں انسانیت اور سچی مہمانداری نشان نہ تھا۔ ہمسایہ کی رعایت بھی کوئی قاعد و وقانون نہ تھا۔

ایسی حالت میں خداے ہم میں سے ایک بزرگ کو مبعوث کیا۔ جس کے حسب و نسب ، سچائی ، دیانتداری ، تقوی ، پاکیزگی سے ہم خوب واقف تھے۔ اس نے ہم کوتوحید کی دعوت دی اور سمجھیا کہ اس کیلے خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ جائیں ۔ اس نے ہم کو پتھروں کی پوجاتے روکا۔ اس نے فرمایا کہ ہم سچ بولا کر یں ۔ وعدہ پورا کیا کر میں گناہوں سے دور ہیں ، ترائیوں سے بچیں ، اس نے حکم دیا کہ ہم نماز پڑھیں ، صدقہ دیا کہ میں اور روزے رکھا کریں ، ہماری قوم ہم سے ان باتوں پر بگڑ بیٹھی ہے ۔قوم نے جہاں تک ہو سکا ، ہم کو ستایا تا کہ ہم وحدہ لاشریک کی عبادت کرنا چھوڑ دیں اور لکڑی اور پتھر کی مورتوں کی پو با کرنے لگ جائیں ، ہم نے ان کے ہاتھوں بہت ظلم اور تکلیفیں اٹھائی ہیں ۔اور جب مجبور ہو گئے ،تب تیرے ملک میں پناہ لینے کے لیے آۓ ہیں ۔بادشاہ نے یہ تقریریشن کر کہا ، مجھے قرآن سناؤ ، جعفر طیار نے اسے سورۂ مریم سنائی بادشاہ پرایسی تاثیر ہوئی کہ وہ رونے لگ گیا اور اس نے کہا کہ محمد تو وہی رسول ہیں ، جن کی خبر یسوع مسیح نے دی تھی ۔ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے اس رسول کا زمانہ ملا ۔ پھربادشاہ نے مکہ کے کافروں کو دربار سے نکلوادیا۔

سیرت ابن ہشام جلد اول صفحہ 116محکم دلائل سے مزین متنوع و منفرد موضوعات پر مشتمل مفت آن لائن مکتبہ

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: