اللہ والوں کی صحبت میں رہو

امام ربانی حضرت مجددالف ثانی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی میرے پاس آیا جو کسی میرے تعلق والے کا قریبی عزیز تھا وہ پیار ہو گیا قریب تھا کہ اسے موت آ جاۓ.

وہ تعلق والا بندہ میرے پاس آیا اور اس نے بڑی منت وسماجت کی کہ حضرت! آخری وقت ہے تشریف لائیں اور کچھ تو جہات فرمائیں اس کی آخرت اچھی بن جاۓ گی فرماتے ہیں کہ میں وہاں گیا میں نے بہت دیر تک توجہ دی مگر میں نے دیکھا کہ اس کے دل کی ظلمت پر کوئی فرق نہ پڑا میں بڑا حیران ہوا کہ ایسا پہلے بھی نہیں ہوا تھا پہلے تو جب بھی اللہ تعالی کی مدد سے متوجہ ہوا رب کی رحمت نے یاوری فرمائی اور سالکین کے دلوں کی ظلمت کو دور کر دیا .لیکن یہ عجیب معاملہ تھا کہ اتنی توجہ بھی کی مگر اس کے دل پر ذرہ برابر بھی اثر نہ ہوا بے اختیار اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوا تو دل میں القاء فرمایا گیا کہ آپ کی توجہ سے یظلمت دور نہیں ہوگی اس لیے کہ اس آ دمی کے کفار کے ساتھ محبت کے تعلقات میں کافروں سے محبت رکھنے کی وجہ سے دل پر ایسی ظلمت آئی جو وقت کے مجدد کی تو جہات سے بھی دور نہ ہو سکی ۔ (خطبات ذوالفقارص ۴۷۳)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: