حضرت عثمان رضہ اللہ عنہ کی حکمت

سید نا عثمان غنی رضی اللہ کواللہ رب العزت نے خوب مال دیا تھا لیکن ان کے دل میں مال کی محبت نہیں تھی۔ وہ اپنامال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔

رومہ ایک کنواں تھا جو ایک یہودی کی ملکیت میں تھا۔ اس وقت مسلمانوں کو پانی حاصل کرنے میں کافی مشکل کا سامنا تھا۔ وہ اس یہودی سے پانی خریدتے تھے۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عند نے دیکھا کہ مسلمانوں کو پانی حاصل کرنے میں کافی دشواری کا سامنا ہے تو وہ کڑوےکے مالک کے پاس گئے اور فرمایا کہ یہ کنواں فروخت کر دو ۔اس نے کہا میری تو بڑی کمائی ہوتی ہے میں نہیں بیچوں گا۔ یہودی کا جواب سن کر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ آدھابیچ دے اور قیمت پوری لے لیں ۔ وہ یہودی نہ سمجھ سکا۔اللہ والوں کے پاس فراست ہوتی ہے۔ یہودی نے کہا ہاں ٹھیک ہے آدھا حق دوں گا اور قیمت پوری لوں گا۔ چنانچہ اس نے قیمت پوری لے لی اور آدھا حق دے دیا اور کہا کہ ایک دن آپ پانی نکالیں اور دوسرے دن ہم پانی نکالیں گے۔ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اسے پیسے دے دیئے تو آپ نے اعلان کروادیا کہ میری باری کے دن مسلمان اور کافر سب بغیر قیمت کے اللہ کیلئے پانی استعمال کر یں ۔ جب لوگوں کو ایک دن مفت پانی ملنے لگا تو دوسرے دن خریدنے والا کون ہوتا تھا۔ چنانچہ وہ یہودی چند مہینوں کے بعد آیا اور کہنے لگا جی آپ مجھ سے باقی آدھا بھی خرید لیں ۔آپ نے باقی آدھا بھی خرید کر اللہ کیلئے وقف کر دیا۔ (خطبات فقیر )

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: