خانہ کعبہ کی تعمیر

زمین پر خانہ کعبہ پہلا گھر ہے جو الله تعالی کی عبادت کے لیے بنایا گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملنے آتےتھے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی بڑے ہو گئے تھے۔

طوفان نوح کے بعد خانہ کعبہ کی صرف بنیادیں رہ گی تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کو دوبارہ تعمیر کیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام پاس کی پہاڑی سے انہیں پتھر لا کر دیتے تھےاور اپنے والد صاحب کے ساتھ کام کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام خانہ کعبہ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے دعا کرتے “اے اللہ تو ہمارے کام کو قبول فرما بے شک تو سننے اور جاننے والا ہے۔ اے اللہ تو ہمیں اور ہماری اولاد میں سے ایک فرما بردار جماعت بنا۔ اے اللہ ہمیں عبادت کے طریقے سمجھا۔ اے اللہ ہماری توبہ قبول کر بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اے اللہ ہم پر رحم فرما۔ حج کی پکار خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنامیرے گھر کو طواف کرنے والوں، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک و صاف رکھنا۔ مزید فرمایا کہ لوگوں کو حج کے لیے پکارو ۔ تو لوگ تمہاری طرف دنیا کے ہر علاقے سے چلے آئے گئے۔ آج بھی اس پکار جواب پر دنیا سے لاکھوں لوگ حج کرتے ہیں۔ حجر اسود کو بوسہ دینا حجر اسود ایک جنتی پھتر ہے ۔جو خانہ کعبہ کی دیوار میں فکس کیا گیا۔ لوگ اس پتھر کو چومتے ہیں۔

کیونکہ اس پتھر کو ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوما تھا۔ حجر الله اسود کی اہم معلومات حجر اسود کا پہلے نام حجر اسفند تھا۔ اور یہ ایک سفید پھتر تھا۔ لوگ اس کو بوسہ دیتے ہیں ۔ یہ لوگوں کے گناہوں کو جزب کرتا ہے اس لیے یہ سفید پھتر کالا ہو گیا۔ اللہ پاک ہم سب کی بخشش و مغفرت کریں .آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: