تین لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی

تین ایسے بدبخت اوربدنصیب انسان جن کی کوئی نماز بھی قبول نہیں۔ نمازاللہ تعالی کی عبادتوں میں سب سے اہم عبادت ہے۔ اورنمازاللہ کے قریب جانے کا زریعہ ہے،جوکہ نمازمیں انسان اللہ کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے۔


نماز میں جتناخشوبوگابندہ اتنااللہ کے قریب ہوگا، لیکن اس نماز کی قبولیت کیلئے اللہ نے کچھ شرائط رکھی ہیں۔ جو معمولات اور معاشرت کے متلعق ہیں، اپنی طرف سے انسان نمازپڑھ رہا ہوتا ہے،اورپورے وقار سے پڑھتا ہے،لیکن وہ نمازاللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی۔وہ تین لوگ کون سے جن کی نماز اللہ کے ہاں قبول نہیں۔ ان میں سے سب پہلاوہ غلام ہے.جواپنے آقاسے بھاگ جائے،ایسے غلام کی نمازکواللہ تعالی قبول نہیں فرماتے،جب تک کی اپنے آقا کے پاس وآپس نہ لوٹ جائے۔ دوسرے اس شخص کی نماز قبول نہیں ہوتی جوامامت کراتاہو،اورنمازی کسی شرعی عزرکی وجہ اس سے ناراض ہوں اوران کے ناراض ہونےکےباوجودوہ نمازپڑھائے تو اس امام کی اللہ کے ہاں نمازقبول نہیں ہوگی۔ اورتیسراشخص جن کی نمازناقبل قبول ہےوہ ہےوہ بیوی جواپنے خاوندسے ناراض ہو جب تک وہ اپنے خاوند سےناراض رہتی ہے۔اس کی نمازکواللہ قبول نہیں فرماتا،بلکہ حدیث میں آتا کی جب تک بیوی اپنے خاوند سےناراض ہوتی ہےاور ناراضگی کی حالت میں رات گزرتی ہے توفرشتے ساری رات اس پرلانت بھیجتےرہتےہیں۔اورجس پراللہ کی لانت ہواس کی نماز تونمازاس کاکوئی بھی عمل اللہ کیسے قبول کرسکتاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: