علم غیب

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزات میں آپ کا ” علم غیب ” بھی ہے ۔اس بات پر تمام امت کا اتفاق ہے کہ علم غیب ذاتی تو خدا کے سوا کسی اور کو نہیں مگر اللہ اپنے برگزیدہ بندوں یعنی اپنے نبیوں اور رسولوں وغیرہ کو علم غیب عطا فرماتا ہے۔

یہ علم غیب عطائی کہلاتا ہے قرآن مجید میں ہے کہ علم الغيب فلا يظهر على غيبة أحدا إلا من ارتضى من رسول (جن),(الله) عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔اسی طرح قرآن مجید میں دوسری جگہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ ماكان الله ليطلعكم على الغيب ولكن الله يجتبى من رسله من يشاء ص (آل عمران) الله کی شان نہیں کہ اے عام لوگوں! تمہیں غیب کا علم دے دے۔ ہاں الله لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بے شمار غیوب کا علم عطا فرمایا ۔ اور آپ نے ہزاروں غیب کی خبریں اپنی امت کو دیں جن میں سے کچھ کا تذکرہ تو قرآن مجید میں ہے باقی ہزاروں غیب کی خبروں کا ذکر احادیث کی کتابوں اور سیر و تواریخ کے دفتروں میں مذکور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ
تلك من أتبام ئ الغيب توجيها إليكج( هود)یہ غیب کی خبریں ہیں جن کو ہم آپ کی طرف وحی کرتےہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: