ایک حسین نوجوان کا سبق آموز واقعہ حصہ اول

ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں ایک سال سخت ترین گرمی کے زمانے میں حج کو چلا لو بڑی شدت سے چلتی تھی ایک دن جب میں وسط حجاز میں پہنچا تو اتفاقا قافلہ سے بچھڑ گیا اور مجھے کچھ غنودگی ہی آ گئی دفعہ آنکھ جو کھلی تو اس جنگل بیابان میں ایک صحیح صحیح عمر بتا کیا ہے کہنے لگا .

تو نے بڑی سخت قسم مجھے دے دی جو میرے نزدیک بہت ہی بڑی ہے میری عمر بارہ برس کی ہے پھر وہ کہنے لگا ابراہیم تجھے میری عمر پوچھنے کی کیا ضرورت پیش آئی میں نے کہا مجھے تیری باتوں نے حیرت میں ڈال دیا کہنے لگا اللہ کا شکر ہے اس نے بہت نعمتیں عطا فرمائیں اور اللہ کا فضل ہے کہ اس نے اپنے بہت سے مؤمن بندوں سے افضل بنایا ابراہیم کہتے ہیں کہ مجھے اس کے حسن صورت حسن سیرت اور شیر میں کلام پر بڑا تعجب ہوا میں نے کہا سبحان اللہ حق تعالی شانہ نے کیسی کیسی صورتیں بنائی ہیں اس نے تھوڑی دیر نیچے کو سر جھکا لیا پھر اوپر کی طرف نظر اٹھا کر بہت تر کچی اور کڑوی نگاہ سے مجھے دیکھا اور چند شعر پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے ”اگر میری سزا جہنم ہو تو میرے لئے ہلاکت ہے اس وقت میری یہ رونق اور خوبصورتی کیا بناۓ گی اس وقت میری ساری خوبیوں کو عذاب عیب دار بنادے گا اور جہنم میں طویل عرصہ تک روتا پڑیگا اور جبار جل جلالہ سیفرمائے گا اور بدترین غلام تو میرے نافرمانوں میں ہے تو نے دنیا میں میرا مقابلہ کیا میری حکم عدولی کی تو میرے عہد و پیمان کو ( جوازل میں ہوۓ تھے ) بھول گیا تھا یا میری ( قیامت کی ملاقات کو بھول گیا تھا (اے ابراہیم ) تو اس دن دیکھے گا کہ فرمانبرداروں کے منہ چود ہوں رات کی چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے اور حق تعالی شانہ اپنے اوپر سے انوار کے پردے ہٹا دینگے.


جس کی وجہ سے یہ فرمانبرداراس پاک ذات کی زیارت سے ایسے مبہوت ہو جائیں گے کہ اس کے مقابلے میں ہرنعمت اور ہر راحت کو بھول جائیں گے اور حق تعالی شاندان فرمانبرداروں کو ہیبت اور خوشنودی کا لباس پہنائیں گے اور ان کے چہروں کو رونق اور شادابی عطا ہوگی‘‘۔ یہ اشعار پڑھ کر کہنے لگا۔اے ابراہیم مجوروہ ہے جو دوست سے منقطع ہو گیا ہو اور وصال اس کو حاصل ہے جس نے اللہ ے تعالی کی اطاعت سے وافر حصہ لیا ابراہیم اپنے رفقاء سفر سے بچھڑ گئے ہو میں نے آ دمی نظر آیا تو میں جلدی جلدی اس کی طرف چلا تو دیکھا ایک کمسن لڑکا تھا جس کی داڑھی بھی نہ کی تھی اور اس قدر حسین کہ گویا چودہو میں رات کا چاند ہے ۔ بلکہ دو پہر کا سورج اس پر نازونعمت کے کر مجھے چمک رہے ہیں میں نے اس کو سلام کیا اس نے کہا ابراہیم علیہ السلام میرا نام لینے پر مجھے انتہائی حیرت ہوئی اور مجھ سے سکوت نہ ہوسکا میں نے بڑے تعجب سے پوچھا کہ صاحبزادے تجھے میرا نام کس طرح معلوم ہوا تو نے تو مجھے کبھی دیکھا بھی نہیں کہنے لگا ابراہیم ! جب سے مجھے معرفت حاصل ہوئی میں انجان نہیں بنا اور جب سے مجھے وصال نصیب ہوا بھی فراق نہیں ہوا میں نے پوچھا اس سخت گرمی میں اس جنگل میں تجھے کیا مجبوری کھینچ کر لائی کہنے لگا.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: