اللہ کن لوگوں پر ہنستا ہے حصہ اول

جس طرح علیم، سمیع، بصیر، خبیر اللہ تعالی کی صفات میں اسی طرح ہنسنا بھی اللہ تعالی کی صفت ہے، مگر یہ تمام صفات اللہ تعالی کی شان و عظمت کے مطابق ہیں۔ اس کی کوئی صفت مخلوق کے مشابہ کیونکہ اس کا فرمان ہے: لیس کشلہ شيء وهو السميع البصیر۔

اس کے مانند کوئی چیز ہے اور وہی سننے والا دیکھنے والا ہے ۔ الثوری، 42: 11 جن روایات میں اللہ تعالی کی اس صفت کا تذکرہ ہوا نہیں ہے۔ نہیں ہے .دوسرے سے ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں: عن أبي هريرة أن رسول الله قال لينحك الله إلى رجلين يقتل أحدهما الآخر يدخلان الجنة يقاتل هذا في سبيل الله فيقتل ثم يتوب اللہ علی القاتل فيستشه۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی دو آدمیوں کو دیکھ کر (اپنی شان کے مطابق) بنتا حالانکہ انہوں نے ایک جنگ کی ہوگی اور دونوں جنت میں جائیں گے۔ ایک ان میں سے اللہ کی راہ میں لوکر قتل ہوا ہوگا۔ پھر اللہ تعالی نے قاتل کو توبہ کی توفیق بخش دی اور (مسلمان ہوکر) شہادت پاگیا۔ بخاری، ا میچ، 3: 1040، ، رقم : 2671، بیروت، لبنان: دار ابن كثير اليامة مسلم، ا اليامعة الصحيح، : 3: 1504، رقم: 1890، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي یعنی ایک شخص نے کفر کی حالت میں مسلمان شخص کو شہید کیا تو شادت پانے والا وہ جنت میں جائے گا اور بعد میں قاتل بھی مسلمان ہو کر شہید ہو گا تو وہ بھی جنت میں جائے گا۔، اسی طرح ایک طویل حدیث مبارکہ میں بہت ایمان افروز واقعہ بیان کیا گیا ہے جس میں ایک شخص کو دیکھ اللہ تعالی کو ہنسی آتی ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی ا علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا:

آیا ہم آخرت میں اپنے رب کو دیکھیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب آسمان پر ماہ تمام جلوہ افروز ہو تو کیا اس کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے، صحابہ نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب آسمان پر مہر تاباں جلوہ افروز ہو تو کیا اس کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت ہوتی ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا بالکل نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اللہ تعالی کو بھی اسی طرح دیکھو گے، اللہ تعالی قیامت کے دن تمام لوگوں کو جمع فرمائے گا اور فرمائے گا جو شخص دنیا میں جس چیز کی عبادت کرتا تھا وہ آج بھی اس کی پیروی کرے،لہذا جو شخص دنیا میں سورج کی پوجا کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے گا جو چاند کی پوہا کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے گا اور جو بتوں کی پوجا کرتا تھا وہ ان کے ساتھ ہو جائے گا۔ اخیر میں یہ امت رہ جائے گی جس میں مومن اور منافق دونوں شامل ہوں گے، اللہ تعالی ان کے سامنے کسی ایسی صورت میں جلوہ گر ہو گا جو ان کے لیے اجنبی ہو گی اور فرمائے گا میں تمہارا رب ہوں، میری امت کے گی ہم تم سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ہم اس جگہ ٹھہریں گے یہاں تک کہ ہمارا جلوہ گر ہو اور ہم اس کو پہچان لیں، پھر اللہ تعالی ان کے سامنے اس صورت میں جلوہ گر ہو گا جو ان کے لیے بانی پہچانی ہو گی اور فرمائے گا میں تمہارا ہوں.

پھر میری امت عرض کرے گی ہاں تو واقعی ہمارا رب ہے، پھر وہ اپنے رب کے بلوہ کی اتباع کریں گے، پھر دوزخ کی پشت پر پل صراط بچھایا جائے گا اور میں اور میرے امتی سب سے پہلے اس پل سے گزریں گے.اور اس دن رسولوں کے سوا کسی کو اللہ تعالی سے بات کرنے کا حوصلہ نہیں ہو گا اور اس دن رسولوں کی زبان پر یہی دعا ہو گی اللہمہ سلیم سلیم (اے مولی سلامتی سے پار گزار دے ) اور جہنم میں سعدان نامی خار دار جھاڑی کی مثل کانٹے ہوں گے، پھر آپ نے پوچھا: کیا تم نے سعدان جھاڑی کو دیکھا ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا جی! یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ کانٹے سعدان جھاڑی کے کانٹوں ہی کی طرح ہوں گے لیکن اس کے دندانوں کی لمبائی کی مقدار کو بغیر اللہ تعالی کے ( بتلائے کوئی نہیں جانتا اور وہ کانٹے لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے جسم میں ٹھیٹ لیں گے اور بعض مومن اپنے نیک اعمال کے سبب ان سے محفوظ رہیں گے اور بعض مومن پل صراط سے گزر کر جہنم سے نجات پا جائیں گے (یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کا فیصلہ کر کے فارغ ہو جائے گا، ہے ان میں سے وہ جن ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: