توبہ کا ایمان افروز واقعہ حصہ دوم

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہم تینوں سے بات چیت کرنے سے منع کردیا ۔ چنانچہ وہ ہم سے کنارہ کش ہو گئے اور اس قدر بے رخی اختیار کی کہ مجھے ایسے لگا جیسے یہ زمین بھی وہ نہیں جسے میں پہلے جانتا تھا۔

میرے دونوں ساتھی تو اپنے گھروں میں جا کر بیٹھ گئے اور روتے ہوئے دن رات گذارنے لگے ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ان کی نسبت کم سن تھا اور مضبوط اعصاب کا مالک تھا ۔ میں گھر سے باہر نکلتا ، مسجد میں جا کر نماز ادا کرتا ، بازاروں میں گھومتا لیکن کوئی شخص مجھ سے بات نہ کرتا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی آتا ، آپ کی خدمت سلام پیش کرتا اور دل میں کہتا کہ پتہ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہونٹ بھی ہلائے ہیں یا نہیں ؟ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نماز ادا کرتا ، جب پوری طرح نمازکی طرف متوجہ رہتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے رہتے ، لیکن جب میں آپ کی طرف التفات کرتا تو آپ نظریں ہٹا لیتے ۔یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا ۔ میں لوگوں کی بے رخی سے تنگ آ چکا تھا ۔ اسی دوران مجھے غسان کے بادشاہ کی طرف سے ایک خط ملا جس میں لکھا ہوا تھا کہ ہمیں معلوم ہوا کہ تمھارے ساتھی نے تمھارے ساتھ بے وفائی کی ہے حالانکہ تم وہ شخص نہیں جسے اس طرح ضائع کردیا جائے۔ لہذاتم ہمارے پاس آ جاؤ ، ہم تمھارا ساتھ دیں گے اور تم سے ہمدردی کریں گے ۔ میں نے وہ خط جلا دیا اور دل میں کہا کہ یہ ایک اور آزمائش ہے چالیس دن گذرنے کے بعد ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم آیا کہ ہم اپنی بیویوں سے بھی الگ ہو جائیں ۔

چنانچہ میں نے اپنی بیوی کو اس کے گھر والوں کے پاس بھیج دیا ۔اس طرح پچاس راتیں گذر گئیں ۔ پچاسویں رات گذرنے کے بعد میں نے نماز فجر اپنے ضاقت عليهم الأرض بما رحبت وضاقت عليهم أنفسهم وظنوا أن لا ملجأ من الله إلا إليه) التوبة:118گھر کی چھت پر ادا کی ۔ میری حالت وہی تھی جو اللہ تعالی نے ذکر کی ہے کہ “زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی تنگ ہو گئیں اور انہیں یہ یقین تھا کہ اللہ کے سوا ان کیلئے کوئی جائے پناہ نہیں۔‘واقعتا میری جان بھی مجھ پر تنگ تھی اور زمین بھی باوجود وسیع ہونے کے تنگ تھی ۔ اسی دوران میں نے چیخنے والے کی آواز سنی جو جبل سلع کے اوپر چڑھ کر بآواز بلند کہہ رہا تھا :(( یا کعب بن مالک،ابشر ))‘‘ اے کعب بن مالک ! تمھیں خوشخبری ..ہویہ سن کر میں سجدے میں گر گیا اور میں نے جان لیا کہ اب مشکل ٹل گئی ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہماری توبہ کی قبولیت کے بارے میں آگاہ کیا تو وہ سب ہمیں خوشخبری سنانے کیلئے نکل پڑے ۔ ایک شخص اپنے تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر میری طرف دوڑا لیکن جس نے مجھے پہاڑ کے اوپر سے بآوازبلند خوشخبری سنائی تھی اس کی آواز گھوڑے سے زیادہ تیز رفتار ثابت ہوئی ۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوا تو لوگ فوج در فوج مجھے ملتے اور مبارکباد دیتے ہوئے کہتے :

اللہ تعالی نے تمھاری توبہ قبول کر لی ، تمھیں مبارک ہو۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جو مسجد میں تشریف فرما تھے ۔ میں نے سلام پیش کیا.اس وقت آپ کا چہرۂ انور خوشی کی وجہ سے چمک رہا تھا اور اتنا روشن تھا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو۔آپ نے فرمایا : (( أبشر بخير يوم مر علیک منذ ولدتک أمک ))جب سے تمہیں تمھاری ماں نے جنم دیا آج کا دن تیرے لئے سب سے بہتر ہے ،لہذا تمھیں اس کی خوشخبری ہو ۔میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اپنی توبہ کی قبولیت کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنا پورا مال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے صدقہ کرتا ہوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( امسک علیک بعض مالک فہو خیر لک ) ” تم کچھ مال اپنے پاس رکھ لو، یہ تمھارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا : مجھے جو حصہ خیبر سے ملتاہے میں اسی کو اپنے پاس رکھ لوں گا ۔ اس کے بعد میں نے کہا : (( یا رسول اللہ ! إنما أنجاني بالصدق ، وإنّ من توبتي أن لا أحدث إلا صدقا ما بقيت )” اے اللہ کے رسول ! مجھے اللہ تعالی نے سچ بولنے کی وجہ سے ہی نجات دی ہے ، اس لئے میں اپنی توبہ کی قبولیت کے شکرانے طور پر جب تک زندہ رہونگا جھوٹ نہیں بولوں گا۔”اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ اللہ تعالی نے سچ بولنے کی توفیق دے کر کسی شخص پر اتنا احسان کیا ہو جیسا کہ مجھ پر کیا ۔

(( والله ما تعمدت كذبة منذ قلتُ ذلک لرسول الله صلي الله عليه وسلم إلى يومى بدا وإني لأرجو أن يحفظني الله فيما بقي )) اللہ کی قسم ! میں نے جب سے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی اس وقت سے اب تک کبھی جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولا ۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالی بقیہ زندگی میں بھی مجھے اس سے محفوظ رکھے گا ۔”اس طویل قصہ سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ سچ بولنے والوں کو اپنے عذاب سے نجات دیتا ہے اور ان کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔
(مختصرا من صحيح البخاری : 4418 و مسلم

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: