اللہ کن لوگوں پر ہنستا ہے حصہ دوم

پھر وہ ارادہ کرے گا کہ جن لوگوں نے شرک نہیں کیاوہ جن کو چاہے محض اپنی رحمت سے جہنم سے نکال لے اس وقت فرشتوں کو حکم دے گا جو لوگ کلمہ طیبہ (لا اله الا الله محمد رسول اللہ ) پر تاحیات قائم رہے ان کو جہنم سے نکال لیں.

فرشتے ان لوگوں کو سجدوں کے نشانات کی وجہ سے پہچان لیں گے کیونکہ آل ابن ا کے اعضاء بجود کے علاوہ تمام جسم کو بلا دے گی، یہ لوگ جلے ہوئے جسم کے ساتھ جہنم سے نکالے جائیں گے، پھر ان پر آب حیات ڈالا جائے گا جس کی وجہ سے یہ لوگ اس طرح تروتازہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے بیلے کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ اگ پڑتا ہے، پھر جب اللہ تعالی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے سے فارغ ہو جائے گا تو ایک شخص ابھی باقی ہو گا تو وہ اللہ تعالی سے عرض کرے گا اے میرے رب میرا منہ جہنم کی طرف سے ، پھیر دے اس کی بدو مجھے ایذاء پہنچاتی ہے اور اس کی ا تپش مجھے جلا رہی ہے،پھر جب تک اللہ تعالی کی مشیت میں ہو گا وہ دعا کرتا رہے گا، پھر اللہ تعالی اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمائے گا۔ اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کر دیا تو پھر تو اور سوال کرنے لگے گا، وہ شخص کئے گا کہ میں اور کوئی سوال ں کروں گا، پھر اللہ تعالی اس سے وعدہ کی پتنگی : اپنی مرضی کے مطابق عہد و پیان لے گا پھر اس کے بعد اللہ تعالی اس کا چہرہ جسم کی طرف سے پھیر کر جنت کی طرف کر دے گا۔ جب وہ ہ کو ا سامنے دیکھے گا تو اللہ کی مشیت کے مطابق کچھ دیر تو ہے گا پھر کئے گا اے میرے رب مجھے ؟ ے جنت کے دروازے تک لے جا، اللہ تعالی فرمائے گا کیا تو نے مجھ سے پختہ عہد و پیمان نہیں کیے تھے کہ تو مزید سوال نہیں کرے گا.

افسوس ہے اے ابن آدم! تو کس قدر عہد شکن ہے، وہ شخص عرض کرے گا اے میرے رب! اور اللہ تعالی سے دعا کرتا رہے گا حتی کہ اللہ تعالی اس سے فرمائے گا: شخص جنت کو اپنے چپ رہے گا. اے میرے اگر میں نے تیرا یہ سوال بھی پورا کر دیا تو پھر تو اور کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ شخص کے گا تیری عزت و جلال کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا، پھر اللہ تعالی اس شخص سے اس نے وعدہ کی مہنگی پر اپنی مرضی کے مطابق عهد و پیان لے گا اور اس کو جنت کے دروازے پر کھڑا کر دے گا، جب و شخص جنت کے دروازہ پر کھڑا ہو گا تو بہت اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ اس کو نظر آئے گی اور وہ اس میں سرور انگیز اور خوشگوار مناظر دیکھے گا، پھر اللہ تعالی کی مشیت کے مطابق کچھ دیر تو وہ چپ رہے گا اس کے بعد کے گا: اے میرے رب مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اللہ تعالی اس سے فرمائے گا: کیا تو نے ابھی پختہ عمد نہیں کیے تھے کہ تو اس کے بعد سوال نہیں کرے گا، افسوس اے ابن آدم تو کس قدر عہد شکن ہے ۔ وہ شخص عرض کرے گا: أي رب! لا اكون اشتی ناتک فلا یال یدعو الله حتی بینک اللہ تبارک وتعالى منه ـ فإذا الله منه، قال: ادخل الجنة -دعا کرتا رہے اے میرے رب! میں تیری مخلوق میں زیادہ بدنصیب ہوں گا (کہ جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوں اور پھر جنت کے اندر نہ جا سکوں ) وہ یونہی بار بار گا حتی کہ اللہ تعالی کو اپنی شان کے مطابق ہنسی آئے گی .

پھر جب اللہ تعالی ہنس پڑے گا تو فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جا۔ اور جب اس شخص کو اللہ تعالی جنت میں داخل کر دے گا تو پھر فرمائے گا اب اور تمنا کر، وہ شخص اللہ تعالی سے کچھ سوال اور تمنائیں کرے گا، پھر اللہ تعالی خود اس کو جنت کی نعمتوں کی طرف متوجہ کرے گا اور جنت کی نعمتوں کی اجناس اسے یاد دلائے گا تاکہ اس کی آرزوئیں پوری ہو جائیں، اس کے بعد اللہ تعالی فرمائے گا یہ سب ہمتیں بھی لے لو اور اتنی ہی مقدار میں اور متیں بھی لے لو۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی اس حدیث کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے مطابق بیان کیا۔نعمتیں صرف اس بات سے اختلاف کیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ کہا یہ تمام نعمتیں بھی لے لو اور ان کے برابر اور ہمتیں بھی لے لو تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا ابے ابو ہریرہ! یہ تمام بھی لو اور اس کی مثل دس نعمتیں اور لے لو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے تو یہ حدیث یونہی یاد ہے کہ یہ ہمتیں اور ان کی ایک مثل لے لو۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا میں اللہ تعالی کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ مجھے رسول اللہ طرح یاد ہے کہ یہ بھی لو اور ان کی مثل دس عمتیں اور لے لو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس شخص کی بات کر رہا ہوں جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: