ایک حسین نوجوان کا سبق آموز واقعہ حصہ دوم

ابراہیم اس کے سوا میں نے کبھی کسی سے انس پیدا نہیں کیا اور نہ اس کے سوا کسی کو ساتھی اور رفیق بنایا میں اس کی طرف بالکلیہ منتقل ہو چکا ہوں اور اس کے معبود ہونے کا اقرار کر چکا ہوں میں نے پوچھا کہ تیرے کھانے پینے کا ذریعہ کیا ہے کہنے لگا .

محبوب نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے میں نے کہا خدا کی قسم مجھے ان عوارض کی وجہ سے جو میں نے ذکر کئے تیری جان کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے تو اس نے روتے ہوۓ کہاکہ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی موتیوں کی طرح سے اس کے رخساروں پر پڑ رہی تھی چند شعر پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے ۔ کون شخص ڈراسکتا ہے مجھ کو جنگل کی سختی سے حالانکہ میں اس جنگل کو اپنے محبوب کی طرف چل کر قبلع کر رہا ہوں اور اس پر ایمان لا چکا ہوں مجھ کو بے چین کر رہا ہے اور شوق ابھارے لئے جاتا ہے اور اللہ کا چاہنے والا بھی کسی آدی سے نہیں ڈرسکتا اگر مجھے بھوک لگے گی تو اللہ کا ذکر میرا پیٹ بھرے گا اور اللہ کی حمد کی وجہ سے میں پیاسا نہیں ہوسکتا اور اگر میں ضعیف ہوں تو اس کا عشق مجھے نجازے خراسان تیک (یعنی یورپ سے پیتم تک لے جاسکتا ہے تو میرے بچپن کی وجہ سے مجھے حقیر سمجھتا ہے اپنی ملامت کو چھوڑ جو ہونا تھا ہو چکا میں نے پوچھا تجھے خدا کی قسم کہا ہاں میں ایسے ہی رہ گیا تجھ سے اللہ کے واسطے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لئے دعا کرے کہ میں اپنے ساتھیوں سے جاملوں میرے اس کہنے پر اس لڑکے نے آسمان کی طرف دیکھا اور کچھ آہستہ آہستہ زبان سے کہا کہ مجھے اس کے ہونٹ حرکت کرتے ہوۓ معلوم ہوۓ اس وقت مجھے روڈ نیند کا جھونکا سا آیا ی.

بیہوشی کی ہوئی اس سے جو میں نے افاقہ پایا تو قافلے کے بیچ میں اونٹ پر اپنے آپ کو پایا اور میرے اونٹ پر جو میرا ساتھی تھا وہ مجھ سے کہہ رہا تھا ابراہیم ہوشیار ہو نچھلےرہوا یا نہ ہواونٹ پر سے گر جاؤ اور اس لڑکے کا مجھ کو کچھ پتہ نہ چلا کہ وہ آسمان پراڑ گیایا زمین کے اندراتر گیا جب ہم سارا راستہ طے کر کے مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور میں حرم شریف میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ لڑکا کعبہ شریف کا پردہ پکڑے ہوئے رورہا ہے اور چند شعر پڑ رہا ہے ۔ جن کا ترجمہ یہ ہے ۔ میں کعبہ کا پردہ پڑ رہا ہوں اور بیت اللہ کی زیارت بھی کر رہا ہوں لیکن دل میں جو کچھ ہے اس کو اور راز کی بات کو تو خوب جانتا ہے میں بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر آیا ہوں کہیں سوار نہیں ہوا اس لئے کہ میں باوجود اپنی کم سنی کے فریفتہ عاشق ہوں میں بچپن ہی سے تجھ پر مرنے لگا ہوں جب کہ میں عشق کو جانتا بھی نہ تھا اور اگر لوگ ملامت کر میں کسی بات پر تو میں ابھی عشق کاطفل مکتب ہوں اے اللہ اگر میری موت کا وقت آ گیا ہو تو شاید میں تیرے وصل سے بہرہ یاب ہوسکوں‘‘۔اس کے بعدوہ بے اختیار جدہ میں گر گیا اور میں دیکھتا رہا اور اس کے بعد میں اس کے پاس گیا اور اس کو ہلایا تو وہ انتقال کر چکا تھا رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔ابراہیم کہتے ہیں کہ مجھے اس کے انتقال کا بڑ اسخت صدمہ ہوا میں وہاں سے اٹھ کر اپنی قیام گاہ پر آیا

اور اس کے کفن دینے کے لئے کپٹر الیا اور مدد کے لئے ایک دو آدمی ساتھ لئے اور وہاں پہنچا جہاں اس کو مردہ چھوڑ کر آیا تھا تو اس کی نعش کا کہیں پتہ نہ چلا وہاں دوسرے حاجیوں سے دریافت خوشبو آتی رہی ۔ (بحوالہ فضائل حج ) حاصل ……. بیشک جو اللہ کی محبت میں ڈوب جا تا ہے اس کی کیفیت ایسی ہی ہو جاتی ہے ، اور یقینا اصل چیز تو اللہ اور اس کے رسول کی محبت ہی ہے ،خوش نصیب ہے وہ مسلمان جواللہ اور اس کے رسول کی محبت میں ڈوب کر زندگی گزارے، دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی اپنی حقیقی محبت نصیب فرماۓ آمین یا رب العلمین ۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: