استاد اور شاگردوں کا سبق آموز واقعہ

ایک استاد اپنے چھوٹے چھوٹے شاگردوں کو دنیا میں آنے
کا مقصد سمجھا رہا تھا، عموماً یہ ہوتا ہے کہ بچے بڑوں کی طرح بات نہیں سمجھتے، انہیں سمجھانے کیلئے انہی کی سوچ کی حدسے مثال دی جاتی ہے۔

استاد، بچوں کیا آپ سکول ٹفن لیکر جاتے ہو ؟”!بچے، “جی ہاں اچھا یہ بتاؤ، کیا آپ لوگ وہاں پڑھنے کیلئے جاتے ہو یا” یئے ہو. ٹفن میں موجود لنچ کھانے کیلئے ؟ بیچے، “ہم سکول میں پڑھنے کیلئے جاتے ہیں استاد، ھم اس کا مطلب ہے کہ آپ کا مقصد پڑھنا اور ٹفن کا لنچ ضرورت ہے.” بچے، “جی ہاں۔اچھا بچو! اگر ایک بچہ سارا دن ٹفن میں سے بس لنچ نکال” کر ہی کھاتا رہے اور نہ وہ کوئی کلاس ورک کرے نہ ہوم “ورک تو کیا یہ اچھا بچہ ہے یا گندہ بچہ؟ گندہ بچہ ہے کیونکہ سکول میں لنچ کی بریک ملتی ہے، جو ہروقت کھائے گا، اس کے سکول آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اچھا بچو یہ بتاؤ ایک بچہ اپنے ساتھ کافی سارے ٹفن لے۔ آتا ہے تو کیا وہ عقلمند ہے یا بے وقوف؟ وقوف۔۔۔۔” “کیوں بے وقوف کیوں ہے؟”کیونکہ وہ سکول میں صرف ایک یا زیادہ سے زیادہ دو ٹفنز کا” لنچ ہی کھا سکتا ہے۔ ہاں بچو! اب میری بات سنو، اللہ نے ہمیں اس دنیا میں” بھی ایسے ہی بھیجا ہے کہ جیسے آپ کلاس میں آئے ہو، اور جیسے آپ کا مقصد یہاں کلاس ورک، اور ٹیسٹ کی تیاری کرنی ہے ویسے ہی ہمیں بھی دنیا میں آخرت کی تیاری کرنی ہے، نیکی کا کام خود بھی کرنا ہے دوسروں کو بھی ترغیب دینی ہے، اور گناہ سے خود بھی بچنا ہے اور دوسروں کو بھی منع کرنا ہے۔ لیکن کچھ لوگ مقصد پیسے کمانا اور کوٹھیاں بنگلےبنانے کو سمجھ لیتے ہیں.

ان کی مثال اسی بچے جیسی ہے جو ہر وقت بس لنچ ہی کرتا ہے، یا پھر اس بیچے جیسی جو دوسروں کو دکھانے کیلئے کافی سارے لنچ کے ٹفن لے آتا ہے لیکن اس سے کھائے صرف ایک یا زیادہ سے زیادہ دو ہی جاتے ہیں، بالکل اسی طرح کوئی بھی دنیا میں کمائی گئی دولت قبر میں اپنے ساتھ نہیں لے کر جاسکتا۔ تو بچو! آپ بتاؤ آپ بڑے ہو کر کیا کرو گے؟؟؟ ہم بڑے ہوکر خود بھی نیک کام کریں گے اور دوسروں کو” بھی نیکی کی دعوت دیں گے۔۔۔۔ خود بھی گناہ سے بچیں ” گے اور دوسروں کو بھی منع کریں گے۔۔۔ شاباش بچو! آج کا سبق ختم ہوا.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: