سنت رسول ﷺ نفع ہی نفع

میری ایک دفعہ میٹنگ تھی جس میں امریکن کمپنی کے تین ڈائر یکٹرز اور جنرل مینیجر وغیرہ تھے ہم ایک Table پر بیٹھے کھانا کھارہے تھے فقیر نے دیکھا کہ وہ امریکن حضرات بھی ہاتھ سے کھانا کھارہے ہیں .

حالانکہ چھری کانٹے ایک طرف رکھے ہوئے تھے فقر بہت حیران ہوا اور پوچھا کہ آپ نے یہ چھری کانٹے استعمال نہیں کئے تو انہوں نے کہا کہ ہمیں ہاتھوں سے کھانا کھانا پسند ہے آج پہلی دفعہ چٹی چمڑی والوں کو دیکھا کہ یہ چھری کانٹے کو چھوڑ کر اس طرح انگلیوں سے کھارہے ہیں جب ہم کھانا کھا چکے تو انہوں نے با قاعدہ ساری انگلیوں کو باری باری منہ میں لے کر صاف کیا فقیر نے ان سے سوال کیا ?Why did you this تو وہ کہنے لگے کہ تحقیق ہے کہ جب انسان انگلیوں سے کھانا کھا تا ہے تو ان کے مسام سے پلا ز ما خارج ہوتا ہے جس کو مائکروسکوپ کی آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے اور یہ پلازمہ کھانے کے ساتھ انسان کے منہ میں جاتا ہے اور ہاضمہ میں کام آتا ہے کہنے لگا کہ اب ہم چھری کانٹوں کی بجاۓ انگلیوں سے کھانا پسند کرتے ہیں۔
( خطبات ( والتقارص۱/۲۰۲)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: