زیارت رسول ﷺ

ایک شخص حضور ﷺ پر درورد نہیں بھیجا کرتا تھا ایک رات اس نے خواب میں حضور ﷺ کی زیارت کی آپ نے اسکی طرف توجہ نہ فرمائی۔ اس آدمی نے عرض کیا کہ سرکار آپ مجھ سے ناراض ہیں کیا؟ میں بھی آپ کا امتی ہوں غلام ہوں آپکا۔

سرکار میں نے تو سنا ہے کہ آپ اپنے ہر امتی کو اس کے نام سے پہچانتے ہیں اس امتی کی ماں سے زیادہ پہچان ہے آپکو اپنے ہر ہر امتی کی .سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا تو نے سچ سن رکھا ہے لیکن ٹو نے مجھے درود بھیج کر اپنی یاد نہیں دلائی، میرا کوئی بھی امتی جب مجھ پر جتنا درود بھیجتا ہے میں اسے اتنا ہی پہچانتا ہوں جتنا وہ درورد بھیجتا ہے۔؛ اس شخص کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی اور اس نے روزانہ ایک سو مرتبہ (100) درود بھیجنا شروع کر دیا ۔کچھ مدت کے بعد حضور ﷺ کے دیدار سے پھر خواب میں مشرف ھوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ؛میں اب تجھے پہچانتا ہوں اور میں تیری شفاعت بھی کروں گا۔ اس لیے کہ وہ اب آپ کا محب بن گیا تھا۔ قرآن کریم میں اللہ پاک کا ارشاد ہے ، قل ان کنتم تحبون اللہ ۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نے کعب بن صلى الله اشرف اور اس کے ساتھیوں کو دعوتِ اسلام دی تو وہ کہنے لگے ہم تو اللہ تعالیٰ کے بیٹوں کی طرح ہیں، اور اُس سے بہت محبت کرتے ہیں۔ تب اللہ پاک نے حضور ﷺ سے کہا آپ ان سے کہہ دیں اگر یہ مجھ سے محبت کا دعوی کرتے ہیں تو پھر آپ کی اتباع کریں. یعنی اللہ پاک نے اپنی محبت کو بھی حضور نبی اکرم ﷺ کی اتباع و محبت سے مشروط کر دیا۔ اس بات کا اعلان و اظہار قرآن پاک میں جگہ جگہ آیا ہے۔قل إن كنتم تحبون اللہ فا تبغوني يحبكم الله فرما دیں! اے نبی ! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو ۔ اللہ تمہیں محبوب رکھے گا ۔(بحوالہ مکا شفۃ القلوب باب ۔9 )

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: