حضرت موسی علیہ السلام پر معرفت کا نور

جب حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر گئے تو وہاں پر چالیس دن مظہرے اور انہیں اللہ رب العزت کا دیدار نصیب ہوا اس وقت اللہ رب العزت نے ستر ہزار پردوں میں سے بجلی ڈالی اس کے باوجود کوہ طور جل کر سرمہ کی مانند بن گیا .

اور حضرت موسی علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے ان کو نہ آگ گئی اور نہ ہی موت آئی کیونکہ استعداد میں فرق تھا۔ آپ کے قلب کے اندر اللہ رب العزت کی محبت کی اور تجلیات کو قبول کرنے کی استعد ابھی اور اس پہاڑ کے اندر استعداد نہیں تھی اس لیے وہ جل گیا اور حضرت موسی علیہ السلام پر فقط نشی کی سی کیفیت ہوئی تفسیر در منشور میں لکھا ہے:
“لمأكلم موسى ربه عزوجل مكث اربعين يوما لا يراه احدالامات من نور الله جب موسی علیہ السلام نے اپنے رب سے کلام کیا تو چالیس دن تک مظہرے رہے (اس کے بعد کوئی بھی ان کے چہرے کو نہیں دیکھ سکتا تھا اگر کوئی دیکھتا تو دیکھتے ہی اس آ دمی کو موت آ جاتی تھی .چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام اپنے چہرے کو چھپاۓ رکھتے تھے حتی کہ ان کی بیوی بھی ان کا چہرہ دیکھنے کو ترستی تھی اور وہ نہیں دیکھنے دیتے تھے اس لیے کہ ان کی آنکھوں میں وہ حسن اور نورآ گیا تھا کہ اس بجلی کو سیکھنے کے بعد دیکھنے والا ان کے حسن کی تاب نہ لا کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا تھا سبحان اللہ! جس نے پروردگار کے حسن و جمال کوستر ہزار مردوں میں دیکھا اس کے چہرے کا حسن اتابڑ ھ گیا کہ مخلوق اس کا دیدار کرنے کی استعدادنہیں رکھتی تھی۔ ( خطبات ذوالفقار ۱۰/۲۸)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: