در بارالہی میں اہل محبت کی لاج

ایک مرتبہ ایک مسلمان اور ایک عیسائی رفیق سفر ہے چونکہ دونوں کو ایک ہی منزل پر جانا تھا لہذا سوچا کہ اکٹھا رہنے سے سفرا چھا گزرے گا ابھی منزل پر پہنچنے میں دو دن باقی تھے کہ دونوں کا زادراہ ختم ہوگیا۔

آپس میں سوچ بچار کرنے بیٹھے۔ مسلمان نے تجویز دی کہ ایک دن آپ دعا کریں تا کہ کھانا ملے دوسرے دن میں دعا کروں گا کہ کھانا ملے عیسائی نے کہا کہ آپ پہلے دعا کر میں چنانچہ مسلمان نے ایک طرف ہو کر اپنے پروردگار سے دعا مانگی تو تھوڑی دیر میں ایک آدمی گرم گرم کھانے کا خوان لے کر آ گیا۔ مسلمان بہت خوش ہوا کہ اللہ تعالی نے عزت رکھ لی۔ کھانا کھا کر دونوں اطمینان کی نیند سو گئے ۔ دوسرے دن عیسائی کی باری تھی وہ بظاہر بڑا مطمئن نظر آ رہا تھا۔ اس نے ایک طرف خوشی کی نہ رہی مگر مسلمان اپنے دل میں بہت پریشان ہوا اس کا جی ہی نہیں چاہتا تھا کہ کھانا کھاۓ ۔عیسائی نے دیکھا تو کہنے لگا کہ آپ کھاتا کھائیں تو میں آپ کو دوخوش خبریاں سناؤں گا۔ جب کھانے سے فارغ ہو گئے تو مسلمان نے پوچھا کہ بتائیں کیا خوشخبری ہے عیسائی نے کہا کہ پہلی خوشخبری تو یہ ہے کہ میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوتا ہوں اور دوسری خوشخبری یہ ہے کہ میں نے یہ دعا مانگی تھی اسے اللہ اگر اس مسلمان کا آپ کے ‘ ہاں کوئی مقام ہے تو آپ کھانا عطافرماد یں ۔لہذا آج اللہ تعالی نے دوخوان آپ کے اکرام کی وجہ سے عطافرمائے ۔ عاشق صادق کی اللہ تعالی کے ہاں بڑی قدرو قیمت ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: