دائی حلیمہ کے گھر حضور ﷺ کی برکتیں

ابویعلی اور ابن حبان نے حضرت عبداللہ بن جعفر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دایہ حضرت حلیمہ نے کہا. جب میں نے آپ کو اپنی گود میں لے لیا تو فورا میری چھاتیاں بقدرضرورت دودھ سے بھرائی.

پہلے میرا بچہ یعنی ضمرہ بھوکا رہنے کی وجہ سے سوتا نہ تھا.اب دونوں نے سیر ہو کر پی لیا اور سو گئے . پہلے میرے پستان میں اتنا دودھ نہ تھا جو بچہ کے لئے کافی ہوتا نہ ہماری اونٹنی کے پاس دودھ تھاجو بچہ کو پلایا جاسکتا. اب جو میرا شوہر اونٹنی کے پاس گیا تو دیکھتا کیا ہے کہ اونٹنی کے تھن دودھ سے بھرے ہوۓ ہیں میرے شوہر نے اس کو دوہا اور میں نے خوب سیر ہو کر پیا اور شوہر نے بھی خوب پیا اور وہ رات بڑے چین سے گزری مجھ کو لے کر جب میں واپس آئی اور گدھی پر سوار ہوئی تو خدا کی قسم! وہ تو اتنی تیز چلنے گئی کہ ساتھیوں کا کوئی گدھا اس کا مقابلہ نہ کر سکا. ساتھ والیاں کہنے لگیں اری ابی ذویب کی بیٹی ! ذرا تو کیا یہ تیری ہی گدھی ہے جس پر تو آئی تھی .میں نے کہا ہاں بات تھی کہ کمزوری اور لاغری کی وجہ سے میری گدھی ساتھ والے قافلے کے لئے بار ہوگئی تھی بار باران کو رکنا پڑتا تھا۔الله اكبر كثير وسبحان الله بكرة حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت حلیمہ نے کہا جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دودھ چھڑایا تو آپ نے کہا را والحمد واصيلا یہ آپ کا سب سے پہلا کلام تھا. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے .حلیمہ آپ کو دور نہیں جانے دیتی تھیں تا کہ آپ کی طرف سے ان کو بے خبری نہ ہو ہے .

ایک روز آپ اپنی (رضاعی) بہن شیماء کے ساتھ باہر چلے گئے اور جہاں ( جنگل میں اونٹ تھے وہاں جا پہنچے حلیمہ تلاش میں نکلیں آپ اپنی بہن کے ساتھ کہیں مل حلیمہ نے کہا….اس گرمی میں تم کہاں پھر رہے ہو؟ شیماء نے کہا اماں! مجھے اپنے بھائی کے ساتھ تو گرمی محسوس ہی نہیں برابر ان کے اوپر ایک بدلی سامیہ کئے رہتی ہے. جب کہیں ٹھہر جاتے تھے بدلی بھی ان کے اوپر ٹھہر جاتی تھی..حلیمہ نے کہا! جس روز سے ہم نے آپ کو لیا ہے.ہم کو چراغ کی ضرورت نہیں رہی .آپ کے چہرہ کی روشنی تو چراغ سے بھی زیادہ نورانی تھی….اگر ہم کوکسی جگہ چراغ کی ضرورت پڑتی تو ہم آپ کو وہاں لے جاتے آپ کی برکت سے تمام مقامات روشن ہو جاتے یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ حلیمہ جب آپ کو لے کر بتوں کی طرف گئیں تو ہیل اور دوسرے بت آپ کی تعظیم میں اپنی اپنی جگہ سرنگوں ہو گئے اور سنگ اسود کے پاس لے کر گئیں تو سنگ اسودخودا پنی جگہ سے نکل کر آپ کے منہ کو چمٹ گیا…. سی مروی ہے کہ حلیمہ آپ کو دودھ پلانے لگیں تو پستانوں سے اتنا دودھ بہنے لگا جو دیں بلکہ اس سے بھی زیادہ بچوں کے لئے کافی ہوتا ….. جب حلیمہ آپ کو لے کر کسی خشک وادی میں سے گزرتیں تو وہ فورا سرسبز ہو جاتی.

حضرت حلیمہ خودسنتی اور دیکھتی جھک جاتی تھیں کہ پتھر اور درخت آپ کو سلام کرنے میں آپ کی طرف رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کا رضاعی بھائی دونوں ساتھ ساتھ بکریاں چرایا کرتے تھے… رضاعی بھائی کا بیان ہے کہ…میر رضاعی بھائی جب کسی وادی پر جا کر کھڑا ہوتا تھا تو وہ فورا سرسبز ہو جاتی تھی….اور بکریوں کو پانی پلانے کے لئے ہم کنوئیں پر آتے تھے تو کنوئیں کا پانی اہل کر کنوئیں کے منہ تک آجا تا جب آپ دھوپ میں کھڑے ہوتے تھے تو بدلی آکر سایہ کر لیتی تھی اور جنگلی جانور آپ کے پاس آ کر آپ کو چومتے تھے ….. ( حوالہام السير )

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: