امام ابوحنیفہ اور سترہ احادیث

بیرون ملک ایک صاحب میرے پاس آۓ اور کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے کہ امام ابوحنیفہ کوکل سترہ احادیث یا تھی تو کیا اس کے باوجود آپ لوگ اپنے آپ کوحنفی کہتے ہیں؟ عاجز نے جواب دیا کہ آپ کی بات سے پہلے تو ہوسکتا ہے کہ عاجز حنفی ہو.

لیکن اب آپ کی بات سن کر حنفی ہو گیا ہے وہ کہنے لگے کہ یہ کیسے؟ عاجز نے کہا کہ یہ بات تو کی ہے کہ امام ابوحنیفہ کی سربراہی میں چھ لاکھ مسائل کا استنباط کیا گیا تو جونص سترہ احادیث سے چھ لاکھ مسائل کا استنباط کرے عاجز اسے اپنا امام نہ مانے تو کیا کرے جو بند دستر ہ احادیث سے چھ لاکھ مسائل نکالے عاجز تو اس کی عظمت کو سلام کرتا ہے عاجز تو اپنی عقل کو ان کے قدموں میں ڈالتا ہے پھر ان کی عقل ٹھکانے آئی کہنے لگے اب بات سمجھ میں آئی ہے حقیقت یہ ہے کہ للہ تعالی نے امام اعظم کو وہ مرتبہ دیا تھا جو عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے تفسیر قرآن کے بارے میں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ کتاب کے وہی معانی قبول ہونگے جو اللہ تعالی نے فرماۓ ہیں ان کو سمجھنے کیلئے علماء کے پاس جانا پڑے گا اور ان کی صحبت میں بیٹھ کر سیکھنا پڑے گا فقط کتاب پڑھ کر ہم نہیں سمجھ سکتے ہر بندے کی سمجھ اور دانش مختلف ہوتی ہے جو سمجھ ہمارے اکابر کو حاصل تھی وہ ہمیں تو حاصل نہیں ہے اس لیے ہمیں اپنے اکابر کے ساتھ تھی رہنا چاہئے اس میں بھلائی ہے جیسا کہ حدیث نبوی ہے البركة مع اكابر کم ( تمہارے اکابر کے ساتھ رہنے میں برکت ہے ) ( خطبات ذوالفقار : ۳/۱۷)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: