عظیم سپہ سالار

حضرت ابوبکر صدیق نے منصب خلافت سنبھالنے کے بعد 12 ھ میں کبار صحابہ کے مشورہ سے شام پر کئی اطراف سے لشکرکشی کا اہتمام کیا۔ اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کوسپہ سالار مقرر کیا۔

ان کی متحدہ فوج نے بھری گل اور اجتاد ین کو فتح کر کے دمشق کا محاصرہ کر لیا، جوتین ماہ تک جاری رہا محاصرہ ابھی جاری تھا کہ صدیق اکبر گاز مانی ختم ہو گیا اور دشق کی فتح حضرت عمر فاروق کی خلافت کے ابتدائی دور میں عمل میں آئی ، دمشق فتح کر کے اسلامی فوجیں آگے بڑھیں اور مقام مخل میں خیمہ لگن ہوئیں ۔ رومیوں کو دمشق کے نکل جانے کا بڑا افسوس تھا۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کو روکنے کے لیے صوبہ اردن کے شہر اسیان میں فوجیں جمع کیں ۔ ذیقعد 14ھ میں فریقین میں جنگ شروع ہو گئی ، حضرت ابوعبیدہ ایک ایک صف میں جا کر کہتے ،خدا کے بند و صبر کے ساتھ خدا سے مدد چاہو، کیونکہ خد اصبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ بالآ خرکئی خون ریز معرکوں کے بعد عیسائیوں کو شکست فاش ہوئی اور اردن کا پوراصو بہ مسلمانوں کے زیرنگین ہو گیا۔ ایک دفعہ حضرت عمر فاروق نے حضرت ابوعبیدہ کے پاس چارسو دینار اور چار ہزار ور ہم بطور انعام بھیجے ۔ انہوں نے اسی وقت تمام رقم فوج میں تقسیم کر دی اور ایک کوڑی بھی اپنے لیے نہ رکھی ، جب امیرالمومنین نے سنا تو فرمایا! الحمدللہ کہ اسلام میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں ۔ شام میں آپ کی شفقت و رعایا پروری نے عیسائیوں کو بھی مرہون منت بنا رکھا تھا۔ وہاں عیسائیوں کو اوقات نماز میں ناقوس بجانے.

اور گزرگاہوں سے صلیب نکالنے کی بازت پیتھی تاہم انہوں نے سال میں ایک بارعید کے موقع پر صلیب نکالنے کی اجازت کے لیے درخواست گزاری کی ۔ جسے حضرت ابوعبیدہ نے بخوشی منظور فرمالیا اور اس رواداری کا اثر یہ ہوا کہ شامی خود اپنے ہم مذہب رومیوں کے دشمن ہو گئے اور پر ضاورغبت جاسوسی اور خبر رسانی کی خدمات انجام دینے لگے.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: