حضرت خالد بن ولید کی اہل حیرہ کو دعوت اسلام

صالح بن کیسان کی روایت میں ہے کہ جب حضرت خالد بن ولید نے حیرہ میں نزول فرمایا ، حیرہ کے شرفاء آپ کی خدمت میں مع قبیصہ بن ایاس بن حیتہ الطائی کے جس کو کسری نے نعمان بن منذر کے بعد تیرہ کا گورنر بنایا تھا ،حاضر ہوئے ۔

حضرت خالد نے قبیصہ اور اس کے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوۓ فرمایا ۔ میں تم کو اللہ اور اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں ، اگر تم نے یہ بات مان لی تو تم مسلمان ہو اور نفع نقصان میں مسلمانوں کے برابر کے شریک ، اور اگر تم نے اسلام لانے سے انکار کیا تو جز یہ دے دو۔ اور اگر تم نے جزیہ سے بھی انکار کیا تو میں تمہارے پاس ایک ایسی قوم لے کر آیا ہوں جو موت کی اسی طرح لالچی ہے جس طرح تم زندگی کے لالچی ہو، ہم تم سے لڑیں گے، پھر اللہ جو چا ہے ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ دے۔قبیصہ نے حضرت خالد سے کہا کہ مجھے تم سے لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اپنے دین پر قائم رہیں گے اور تمہیں جز یہ دے دیں ، چنانچہ ان لوگوں سے نوے ہزار (90,000) درہم پرصلح ہوگئی ۔ بیتی میں یونس لے سے اس طرح منقول ہے کہ حضرت خالد نے اہل حیرہ سے فرمایا کہ میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ سوائے اللہ واحد کے کوئی عبادت کے قابل نہیں ، اور بلا شک وشبہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ نمازوں کو قائم کرو، زکوۃ ادا کرو ۔ اور مسلمانوں کے احکامات کا اقرار کرو ۔ پھر نفع و نقصان میں مسلمان اور تم برابر کے شریک ہو۔ ہانی ( امیر حیرہ کا نام ) بولا ! اگر میں یہ بھی نہ مانوں تو پھر کیا ہے؟ حضرت خالد نے فرمایا کہ اگر تم اس سے انکار کر تے

ہو تو تمہیں اپنے ہاتھوں جزیہ دینا ہوگا ۔ اس نے کہا اگر ہم اس کا بھی انکار کر و حضرت خالد نے فرمایا اگر تم اس پر بھی راضی نہ ہوں گے تو میں تم کو ایک ایسی قوم ے ذریعے روند ڈالوں گا کہ ان کو موت اس سے زیادہ محبوب ہے جتنا کہ تم کو زندگی پیاری ہے ، بانی نے کہا ہمیں آج کی اس رات مہلت دیجئے تا کہ ہم اس معاملہ میں غور کر لیں ، حضرت خالد نے کہا، جاؤ میں نے مہلت دی۔ جب صبح ہوئی سویرے ہی بانی نے آپ کی خدمت میں آ کر کہا کہ ہم لوگوں نے بالا تفاق جز یہدبنامنظور کرلیا ہے، ہیں آئیے ہم آپ سے صلح کرتے ہیں۔اس کے بعد باقی قصہ بیان کیا.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: