زینت عرش بننے والے قدم وادی طائف میں لہولہان ہو گئے

.

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لکھی جانے والی دستاویز نظلم تار تار کردی تو آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے لگے۔

نبی ﷺ نے ہر سال موسم حج پر قبائل عرب کو سرداروں میری حفاظت کرو میں تمہیں اپنے دین کے اختیار کرنے پر مجبور نہیں کروں گا. جو اسے پسند کرے گا قبول کرے گا اور جو پسند نہ کرے گا میں اسے مجبور نہیں کروں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ تم لوگ میری حفاظت کر دتا کہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچاسکوں . پھر اللہ تعالی میرے لئے جو چاہے گا فیصلہ فرماۓ گا. مگر کسی قبیلہ نے آپ کی یہ دعوت نہ مانی اور ہر کسی نے یہی جواب دیا کہ کسی شخص کو اس کی قوم ہی بہتر جانتی ہے . کیا تم نے بھی ایسا شخص دیکھا ہے جو اپنی قوم کو چھوڑ کر دوسروں کا بھلا سوچے ,درحقیقت اللہ نے آپ کی نصرت واعانت کرنے کا اعزاز انصار مدینہ کے لئے رکھا ہوا تھا. آپ ﷺ نے طائف کے تین سرداروں اپنی بات پیش کہ تم لوگ مجھے اپنے ہاں پناہ دوعبد مالی مسعود حبیب ان تینوں پر اسلام پیش کیابجاۓ اس کے کہ کلمہ حق کو سنتے نہایت سختی سے آپ کو جواب دے دیا.ایک بولا: کیا خدا نے کعبہ کا پردہ چاک کرنے کے لئے تجھ کو نبی بنا کر بھیجا.دوسرا بولا: کیا خدا کوا پنی پیغمبری کے لئے تمہارے سوا اور کوئی نہیں ملا…..اگر تو اللہ کا رسول ہے تو میں کعبہ کے سامنے ڈاڑھی منڈادوں گا۔تیسرابولا: خدا کی قسم میں تم سے ہی کلام نہ کروں گا….. اگر واقعی میں اللہ نے تجھ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے تو تیرے کلام کا رد کرنا سخت خطرناک ہے

(مگر اس نادان نے سمجھا کہ اللہ کے پیغمبر کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کرنا اس سے بھی زیادہ سخت ہے) اور اگر تم اللہ کے رسول نہیں تو پھر خطاب اور لائق التفات نہیں.جسے سفر کے لئے گدھیا تک میسر نہیں کیا خدا کو اس کے سوا,رسول بنانے کے لئے اور کوئی نہیں ملتا تھا…. ٹوٹے ہوۓ دل کے لئے یہ پہلا تیر تھا جوامارت کے نشے میں چور ایک امیر کی زبان سے نکلا.اس طرح کی دل آزار باتیں کرنے کے بعد انہوں نے مزید فرعونیت کامظاہرہ کیا اور کہا!اخرج من بلد نار‘‘ نکل جاؤ ہمارے شہرسے,حضور نے ان سے رخصت ہونے سے پہلے ان کو کہا.اذ فعلتم ما فعلتم فاكتموا على…..”میرے ساتھ جو برتاؤ تم نے کیا وہ تو کیا اب میں سارا معاملہ راز رہے اس کو افشانہ کرنا….“ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خدشہ تھا کہ اہل مکہ کواگر معلوم ہو گیا کہ میں طائف گیا ہوں وہاں کے رؤسا کوقبول اسلام کی دعوت دی ہے اور انہوں نے وہاں بڑی سرد مہری سے اسے ٹھکرادیا ہے تو اہل مکہ خوشی کے شادیانے بجائیں گے اور اسلام کے خلاف ان کے معاندانہ رویہ میں مزید تیزی اور تخی پیدا ہو جائے گی… اس لئے حضور ﷺ نے ان سے اس خواہش کا اظہار کیا… لیکن ان میں مروت نام کی کوئی چیز نہ تھی…. انہوں نے اس واقعہ کی خوب تشہیر کی. وہ ہر ملنے والے سے اپنے اس متکبرانہ بلکہ احمقانہ جواب کا تذکرہ مزے لے لے کر کرتے

اور اس سے بھی زیادہ خست اور رذالت کا انہوں نے یوں مظاہرہ کیا کہنے گے.يـا مـحـمـد اخرج من بلدنا کہ ہمارے شہر سے فورا نکل جاؤ.ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو اپنے دین سے بگاڑ دو گے .

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: