رسول اللہ کی تلوار

غزوہ احد کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہمیں اپنی تلوار اسے دوں گا جو اس کا حق ادا کرے ۔ دوسرے اصحاب کے علادہ زبیر بن العوام کو اس تلوار کی خواہش خصوصیت سے تھی.

لیکن وہ ابودجانہ” کو دے دی گئی ۔ابود جانہ کے پاس ایک سرخ پٹی تھی ۔ وہ جب اسے نکال کر سر پر باندھ لیتے تھے۔ ان میں ایک خاص جوش پیدا ہو جا تا تھا اور کوئی ان کے مقابلے پر سلامت نہ رہ سکتا تھا۔ تلوار لے کر انہوں نے سرخ پٹی سر پر باندھ لی اور حمد کے ترانے گاتے ہوۓ میدان جنگ میں نکل پڑے۔آپ جدھر رخ کرتے تھے افراتفری مچ جاتی تھی ۔ حضرت زبیر کو بطور خاص خیال تھا کہ دیکھیں ابو دجانہ ” کون سے کارنامے انجام دیتے ہیں ۔ ابو دجانہ صفوں کو چیرتے ہوۓ بڑھے تو ابوسفیان کی اہلیہ ہندہ سامنے آ گئی جو مردوں کو جوش دلا رہی تھی ۔ ابودجانہ نے ہندہ پر تلوار اٹھائی تو اس نے چیخ ماری اور مردوں کو امداد کے لیے بلا یا۔ مگر کوئی نہ آیا۔ اس اثنا میں ابو دجانہ نے خود تلوار نیچی کر لی ۔ بعد میں حضرت زبیر نے ابود جانہ سے پوچھا کہ پہلے تلوار اٹھائی ، پھر نیچی کیوں کر لی۔ جواب ملا ، میرا دل اس پر راضی نہ ہوا کہ رسول اللہ کی تلوار عورت پر چلاؤں اور عورت بھی وہ جس کا محافظ کوئی مرد نہ ہو۔ حضرت زبیر کہتے ہیں اس وقت میں سمجھا کہ ابود جانہ نے رسول اللہ کی تلوار کاحق جس طرح ادا کیا شاید میں نہ کر سکتا.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: