معافی کا اعلان عام

حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی ایک روایت میں یہ بھی ہے : جب عید الفطر کی مبارک رات تشریف لاتی ہے تواسے “لیلۃ الجائزۃ“ یعنی “إنعام کی رات“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

جب عید کی صبح ہوتی ہے تواللہ عزوجل اپنے معصوم فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے، چنانچہ وہ فرشتے زمین پر تشریف لاکر سب گلیوں اور راہوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس طرح ندا دیتے ہیں : ”اے امت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم! اس رب كريم عزوجل کی بارگاہ کی طرف چلو!جو بہت زیادہ عطا کرنے والا اور بڑے سے بڑا گناہ معاف فرمانے والا ہے“ ۔ پھراللہ عزوجل اپنے بندوں سے یوں مخاطب ہوتا ہے: ”اے میرے بندو!مانگو!کیا مانگتے ہو؟ میری عزت وجلال کی قسم! آج کے روزاس (نماز عیدکے) إجتماع میں اپنی آخرت کے بارے میں جو کچھ سوال کرو گے وہ پورا کروں گا اور جو کچھ دنیا کے بارے میں مانگوگے اس میں تمہاری بھلائی کی طرف نظر فرماؤں گا(یعنی اس معاملے میں وہ کروں گا جس میں تمہاری بہتر ی ہو)میری عزت کی قسم ! جب تک تم میرا لحاظ رکھو گے میں بھی تمہاری خطاؤں کی پردہ پوشی فرماتا رہوں گا۔ میری عزت وجلال کی قسم !میں تمہیں حد سے بڑھنے والوں (یعنی مجرموں ) کے ساتھ رسوا نہ کروں گا۔ بس اپنے گھروں کی طرف مغفرت یا فتہ لوٹ جاؤ۔ تم نے مجھے راضی کردیا اورمیں بھی تم سے راضی ہوگیا۔“ (الترغيب والترهيب ج۲ ص۶۰حدیث۲۳).

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: