تمہاراسوال بہت بڑا ہے

حضرت براء بن عازب صحابی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بدوی نے آپ کی خدمت مبارک میں حاضر ہو کر درخواست کی کہ یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسی بات بتائے جس کے کرنے سے بہشت نصیب ہو ۔

ارشاد ہوا ” تمہاری تقریر تومختصر ہے لیکن تمہارا سوال بہت بڑا ہے تم جانوں کو آزاد کرو، اور گردنوں کو چھڑاؤ‘‘۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ” کیا یہ دونوں باتیں ایک ہی نہیں؟ فرمایا نہیں اکیلے اگر کسی کو آزاد کرتے ہو تو یہ جان کا آزاد کرنا ہے اور دوسرے کے ساتھ شریک ہو کر کسی کی آزادی کی قیمت میں مالی مدد دینا گردن چھڑانا ہے ، اور لگا تار دیتے رہو ، اور ظالم رشتہ دار کے ساتھ نیکی کرو۔ اگر تم یہ بھی نہ کر سکوتو بھو کے کو کھلاؤ ، اور پیاسے کو پلا اور نیکی کے کام کرنے کو کہواور لڑائی کے کام سے باز رہو۔ اور اگر یہ بھی نہ کر سکو تو اپنے آپ کو بھلائی کے سوا اور باتوں سے روکو.(مستدرک حاکم ج 2 کتاب المكاتب)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: