حضرت مصعب بن عمير اسلام بلند رکھنے والے صحابی

2 ہجری میں غزوہ بدر کے موقع پر حضرت مصعب بن عمیر ان تین سو تیرہ نفوس قدسی میں سے ایک تھے جنھوں نے اپنی استقامت وعزیت اور اخلاص و ایثار کے نقوش صفحیہ تاریخ پر ثبت کیے اور جنھیں’’اصحاب بدر‘‘ کا عظیم الشان لقب مرحمت ہوا ۔

حق و باطل کے اس معرکہ اول میں انھیں بی خصوصی شرف بھی حاصل ہوا کہ سرور عالم نے انھیں مہاجرین کا سب سے عنایت فرمایا۔ 3 ہجری میں جنگ احد پیش آئی تو اس میں بھی حضور نے علمبرداری کا شرف حضرت مصعب کو عطا فرمایا۔ جب ایک اتفاقی غلطی سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر مشہور ہوگئی تو اس وقت مسلمانوں کے تین ایک گروہ نے کہا۔ رسول اللہ کے بعدلڑ نے سے کیا حاصل؟ اور یہ کہ کر مدینہ کی طرف چل دیا۔ دوسرے گروہ نے کہا۔ حضور کے بعد جینے سے کیا حاصل؟‘‘اور یہ کہ کرحصول شہادت کی خاطر مردانہ دارلشکر کفار میں گھس گیا۔ تیسرا گروہ وہ تھا جو حضور کے گرد حصار بنا کر حفاظت کر رہا تھا۔ یہ صرف چودہ جانبازوں مشتمل تھا۔ حضرت مصعب بن عمیر ثابت قدم مجاہدین کے دوسرے گروہ میں شامل تھے۔ ان کا سینہ علم دین کا مخزن تھا ۔ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سنی تو زبان پر بے اختیار یہآیت جاری ہوگئی۔وما محمد رسول ج قد خلت من قبله الرسل (سورة آل عمران) اور محمد تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے بھی رسول گزار چکے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے بلند آواز سے نعرہ لگایا: میں رسول اللہ کا علم سرنگوں نہیں ہونے دوں گا ۔ یہ کہہ کر ایک ہاتھ میں شمشیر برہنہ اور دوسرے میں علم لیے کفار پر ٹوٹ پڑے۔

مشرکین کے مشہور شہسوار این عمیر نے بڑھ کر تلوار کا وار کیا اور ان کا داہنا ہاتھ شہید کر ڈالا ۔ حضرت مصعب نے فورا بائیں ہاتھ میں علم تھام لیا ۔ ابن تیمیہ نے دوسرا ہاتھ بھی۔ شہید کر دیا۔ انہوں نے کئے ہوئے بازؤوں کا حلقہ بنا کر علم کو سینے سے چمٹا لیا۔ گو یا تہیہ کر رکھا تھا کہ جب تک سانس میں سانس ہے پر چم اسلام کو سرنگوں نہ ہونے دیں گے۔ بد بخت این تیمیہ نے اب جھنجھلا کر ان پر نیزے کا ایک ایسا بھر پور وار کیا کہ اس کی انی ٹوٹ کر حضرت مصعب کے علم وشق سے معمور مقدس سینے میں رہ گئی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ جونہی وہ گرے ان کے بھائی ابوالروث بن عمیر نے آگے بڑھ کر علم سنبھال لیا اور لڑائی ختم ہونے تک اس کو تھامے ہوۓ حق شجاعت ادا کرتے رہے ۔ جنگ کے بعد اس علم کو سرنگوں کے بغیر مدینہ اۓ ۔ جب قریش میدان جنگ سے واپس چلے گئے اور مسلمان اپنے شہداء کی تجہیرو تدفین کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ مکہ کے جوان رعنا مصعب چہرہ کے بل گرے ہوئے خاک وخون میں غلطاں ہیں ۔ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شہادت سے سخت صدمہ پہنچا۔ آپ اس پیکر علم وعمل کی لاش کے قریب کھڑے ہو گئے اور یہ آیت تلاوت فرمائی ترجمہ: مومنین میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا اسے بچ کر دکھایا۔

بعض ان میں سے اپنی مدت پوری کر چکے ہیں اور بعض ابھی انتظار کر رہے ہیں اور اپنے ارادہ میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا‘‘۔ اس کے بعد آپ نے آبدیدہ ہو کر فرمایا: میں نے مکہ میں تمہارے جیسا حسین اور خوش لباس اور کوئی نہ دیکھا تھا لیکن آج دیکھتا ہوں کہ تمہارے بال گرد آلود اور الجھے ہوئے ہیں اور تمہارے جسم پر صرف ایک چادر ہے ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ تم لوگ قیامت کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ر ہو گئے۔پھر آپ نے حضرت مصعب کی تکفین کا حکم دیا۔ اس شہید راہ حق کی چادر اتنی چھوٹی تھی کہ اس سے سر ڈھانپا جا تا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں مستور کیے جاتے تو سر برہنہ ہو جا تا۔ بالآ خر حضور نے فرمایا کہ سر چادر سے ڈھانپ دو اور پاؤں کو’’اذخر‘‘ گھاس سے چھپا کر اس شہید حق کوسپر دخاک کر دو.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: