محبوب خدا ﷺ کی فریاد

چوٹوں کی تکلیف کی وجہ سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجبور ہو کر بیٹھ جاتے ہیں تو وہ آپ ﷺ کو پکڑ کر کھڑا کر دیتے ہیں تا کہ آپ ﷺ پر پھر سے پتھر برسائیں .

چنانچہ آپ ﷺ مجبورا چلنا شروع کر دیتے ہیں….اور وہ ستم گر پتھر مارتے اور ٹھٹھے لگانے ہیں …. دومیل تک محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر اسی طرح پتھر برسائے گئے . زید بن حارثہ ﷺ آپ ﷺ کو پتھروں سے بچانے کے لئے خود پتھروں کی بارش کا سر پھٹ گیا.حق کوچھوڑ کر گمراہی کو اپنا لیا ہے…. روشی کو چھوڑ کر تاریکی میں پناہ لے لی ہے اور حسن اعظم پر سنگ باری کر کے اپنی خباثت کا ثبوت دے دیا ہے .محمد صلی اللہ علیہ وسلم زخموں سے چور طائف سے نکل گئے ہیں. بدمعاشوں نے اب آپ ﷺ کا تعاقب کرنا چھوڑ دیا ہے . انہیں بڑی خوشی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو اپنے شہر سے نکال دیا ہے.انہیں تو اپنی سرداری عزیز ہے اور اس خوفناک عذاب کا خیال تک نہیں ہے جو اللہ کے رسول ﷺ کوبستی سے نکال دینے والوں پر آیا کرتا ہے . ارض وسما کی سعتیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں. محمد ﷺ کے غلامو! یادرکھوتمہیں بھی دوسروں تک ان کا پیغام پہنچانے کی پاداش میں ایسے ہی مصائب سے گزرنا پڑے گا… پھر کیا مایوس ہو کر رہ جاؤ گے؟ کیا ان مزاحمتوں پر سنگ باری کرو گے؟ محمدصلی اللہ علیہ وسلم تو رحمۃ اللعالمین ہیں…. تم بھی رحمت و شفقت کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دو تا کہ تم پر رحمت ہوتی رہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: