صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عشق نبوی ﷺ

جنگ احد کے دوران مدینہ منورہ میں خبر پھیل گئی کہ حضوراکرم شہید ہوگئے اس خبر کے پھیلتے ہی مدینہ میں کہرام مچ گیا عورتیں روتی ہوئیں گھروں سے باہرنکل آ ئیں.

ایک انصار یہ عورت نے کہا کہ جب تک اس کی خود تصدیق نہ کرلوں میں اسے تسلیم نہیں کروں گی چنانچہ وہ ایک سواری پر بیٹھی اور اپنی سواری کو اس پہاڑ کی طرف بھگایا۔ کافی قریب آ ئیں تو ایک صحابی آتے ہوۓ ملے ان سے پوچھتی ہیں۔ مابال محمد ﷺ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا مجھے حضورﷺ کا حال معلوم نہیں البتہ میں نے دیکھا کہ تیرے بیٹے کی لاش فلاں جگہ پر پڑی ہوئی ہے اس عورت کو جوان سال بیٹے کی شہادت کی خبر ملی مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی اس ماں کے دل میں عشق رسول ﷺ نے اتنا اثر ڈالا ہوا تھا کہ بیٹے کی شہادت کی خبرسنی مگر کوئی پرواہ نہ کی سواری آگے بڑھاتی ہیں ایک اور صحابی ملے پوچھتی ہیں ـــــــــــــال مـحـمـد محصلی اللہ کا کیا حال ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں البتہ تیرے خاوند کی لاش فلاں جگہ پڑی ہے یہ عورت پھر بھی ٹس سے مس نہ ہوئی اور آگے بڑھی کسی اور سے پوچھا، مابال محم کا کیا حال ہے؟ جواب ملا مجھے معلوم نہیں البتہ تیرے والد کی لاش فلاں جگہ پڑی ہے اسی طرح بھائی کے لاش کے بارے میں بھی بتایا گیا کہ فلاں جگہ پڑی ہے مگر یہ عورت پھر بھی ٹس سے مس نہ ہوئی آگے ایک اور صحابی سے پوچھتی ہیں مـابـال مـحـمـد محرم کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا آپ فلاں جگہ موجود ہیں چنانچہ سواری کو ادھر بڑھاتی ہیں .

جب وہاں پہنچیں تو حضور اکرم ﷺ کھڑے تھے وہاں اپنی سواری سے نیچے اتر گئیں اور حضورﷺ کی چادر کا ایک کونہ پکڑ کر کہا: كل مصيبة بعد محمد ﷺ سهل“ (میرے اوپر تمام مصیبتیں حضوراکرم ﷺ کے دیدار کے بعد آسان ہوگئیں ۔ ( خطبات ذوالفقارص ۲/۱۰۲)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: