روانگی اور فضیلت مرتضوی

سب انتظامات مکمل کر کے حضور میں ہزارلشکر جرار کے ساتھ تبوک کی طرف روانہ ہوۓ ۔ تبوک مد ینہ اور دمشق کے درمیان مدینے سے قریبا ڈیڑھ سومیل کے فاسلے پر ایک مقام کا نام ہے۔ یہ روانگی رجب 9 ھجری میں واقع ہوئی ۔

دس ہزار گھوڑے ساتھ تھے ۔ اور ہر اٹھارہ آ دمی کے درمیان ایک اونٹ رکھا تھا۔ کھانے پینے اور گرمی کی سخت آزمائشیں ہوتیں۔ لیکن مردان خدا تبوک پہنچ ہی گئے ۔ راستے میں حضرت علی تیزی سے روانہ ہو کر لشکر سے مل گئے ۔ بعض لوگوں نے ان کو طعنے دیے تھے ۔اس لیے غیرت نے مدینے میں بیٹھنے نہ دیا۔ جب حضور اکرم نے دیکھا تو پھر مدینے واپس کیا اور فرمایا: ” ماترضی بان تکون منی بمنزله هارون عن موی؟ کیا تم سے پسند نہیں کرتے تم میرے لیے ویسے ہی ہو جس طرح حضرت ہارون حضرت موسی کے لیے تھے ) حضرت موسی” جب کو طور پر چالیس دن کے لیے گئے تھے تو قو م کو حضرت بہار ان کے سپر دکر کے گئے تھے ۔ وقال موی لا یہ ہارون اخلفنی فی قومی ۔اس تشبیہ نے حضرت علی کا درجہ فضل پہلے سے بلند کر دیا۔ اثناۓ سفر میں ان عمارات کے آثار ملے ۔ جو قوم ثمود نے پہاڑ کاٹ کاٹ کر بناۓ تھے ۔ حضور نے فرمایا کہ اس خطے سے جلدی گزر جاؤ اور یہاں کا پانی تک نہ استعمال کرو۔ یہ امت قوم طالوت بھی جو یہاں کا تھوڑا پانی بھی استعمال کر لیتی ۔ تبوک پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ روی تیاریوں کی خبر پہنچی ۔ غالبا مسلمانوں کی سرفروشانہ آمد و کچھ کر رومیوں نے حملے کا خیال ترک کر دیا تھا۔ اندر میں حالات کوئی جنگ نہ پیش آئی ۔لیکن رسول ” کا آنا بے نفع نہیں ہوسکتا تھا.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: